Monday, May 25, 2026

وزیر خارجہ مارکو روبیو کا انڈیا ٹوڈے کے روہت شرما کو انٹرویو

Department of State United States of America

یہ ترجمہ امریکی دفترخارجہ کی جانب سے ازراہ نوازش پیش کیا جارہا ہے۔



امریکی محکمہ خارجہ
ترجمان کا دفتر
انٹرویو
24 مئی، 2026
بھارت منداپم
نئی دہلی، انڈیا

سوال: وزیر خارجہ روبیو، آپ کو انڈیا میں خوش آمدید۔

سوال: آپ انڈیا میں اب دو روز گزار چکے ہیں۔ آپ نے وزیر اعظم سے ملاقات کی۔ آپ نے وزیر برائے خارجہ امور جے شنکر سے ملاقات کی۔ آپ ہمیں وزیر اعظم اور جے شنکر کے ساتھ ان ملاقاتوں کے بارے میں کیا بتا سکتے ہیں؟

وزیر خارجہ روبیو: یہ ملاقاتیں بہت اچھی رہیں۔ میرا مطلب یہ ہے کہ، سب سے پہلے، یہ شاندار جگہ ہے۔ میں نے یہاں گزرے وقت سے واقعتاً لطف اٹھایا۔ ہم دو روز سے یہاں موجود ہیں اور مزید دو روز قیام کریں گے۔ اگر میں یہاں چار ہفتے بھی رہتا تو سب کچھ نہ دیکھ پاتا۔ یہ بہت بڑا ملک ہے جہاں دیکھنے کو بہت کچھ ہے۔

لیکن یہ نہایت اہم تزویراتی تعلق بھی ہے۔ یہ ایک تزویراتی اتحاد ہے۔ دنیا بھر میں ہمارے بہت سے اتحاد ہیں اور ہم دنیا کے بہت سے ممالک کے ساتھ کام کرتے ہیں، لیکن چند ہی اتحاد ایسے ہیں جنہیں واقعتاً اہم تزویراتی اتحاد کہا جا سکتا ہے اور انڈیا بھی ان میں سے ایک ہے۔ لہٰذا، باہمی دلچسپی کے بہت سے ایسے شعبے ہیں جو ہمارے لیے اور انڈیا کے لیے یکساں طور پر اہم ہیں اور دونوں ممالک کے پاس ان میں اپنا کردار ادا کرنے کی صلاحیت ہے۔ لہٰذا یہ قابل فہم ہے۔ ہم یہاں اسی تعلق کو مزید مضبوط بنانے کے لیے آئے ہیں کیونکہ ہر نئے دور میں دنیا بھر میں نئے مواقع اور نئے مسائل سامنے آتے ہیں اور انڈیا ان ممالک میں سے ایک ہے جن کے ساتھ ہم ان تمام معاملات پر انتہائی قریبی تعاون کرتے ہیں۔

سوال: آپ نے بتایا ہے کہ وزیر اعظم مودی امریکہ کا دورہ کریں گے۔۔۔

وزیر خارجہ روبیو: جی ہاں۔

سوال: ۔۔۔ رواں سال۔ ہم یہ بات جانتے ہیں کہ غالباً وہ جی20 اجلاس میں شرکت کے لیے جا رہے ہیں۔ کیا وہ دوطرفہ ملاقات جی20 سے الگ ہو گی؟

وزیر خارجہ روبیو: ہم ایک علیحدہ ملاقات چاہتے ہیں۔ ہم خصوصی دورہ چاہتے تھے۔ یقینا، ہم دسمبر میں فلوریڈا میں ان کی میزبانی کے متمنی ہیں۔

سوال: تعلق، دراصل، اسے (ناقابل سماعت) جنوری میں اس وقت تیزی سے دوبارہ آگے بڑھایا گیا جب سفیر گور امریکہ آئے۔ تجارتی معاہدے طویل عرصہ سے زیر التوا ہیں۔ آئندہ ماہ ایک تجارتی وفد کا دورہ بھی طے ہے۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ اُس وقت تجارتی معاہدے پر دستخط ہو سکتے ہیں؟

وزیر خارجہ روبیو: جی، میں نہیں جانتا۔ ہم امید کرتے ہیں کہ آئندہ ہفتے یا اس کے بعد آنے والے ہفتے تک کوئی معاہدہ طے پا جائے گا۔ لیکن ہم اب معاہدے کی بالکل حتمی تفصیلات، یعنی باریک نکات تک پہنچ چکے ہیں۔ اس کے باوجود مجھے بے حد اعتماد ہے۔ ہمارے پاس اس بارے میں پرامید ہونے کی کافی وجوہات ہیں کہ ہم ایک تجارتی معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ یہ بہت اچھی بات ہو گی کیونکہ اس سے دونوں ممالک کو فائدہ ہو گا۔ اس سے امریکہ کی یہاں سرمایہ کاری اور انڈیا کی امریکہ میں سرمایہ کاری بڑھے گی۔ اس سے ہمارے کاروباری اداروں کے درمیان مشترکہ سرمایہ کاری اور مزید تعاون کے لیے ایک پلیٹ فارم میسر آئے گا۔ ظاہر ہے کہ محصولات اور اسی طرح کے امور اس پورے تعلق پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اس لیے ہم جس قدر جلد ایک ایسا اچھا تجارتی معاہدہ کر سکیں جو دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ہو تو اسی قدر زیادہ مواقع پیدا ہوں گے۔

سوال: لیکن، کیا یہ آئندہ ماہ تک ہو سکتا ہے؟

وزیر خارجہ روبیو: جی، میرا خیال ہے، میں کوئی حتمی تاریخ نہیں دوں گا لیکن میرا خیال ہے کہ یہ مہینوں میں نہیں بلکہ ہفتوں میں ہو گا۔

سوال: اور کون سا کب؟ میرا مطلب ہے، کواڈ رہنما۔

وزیر خارجہ روبیو: امید ہے کہ یہ رواں سال میں ہی ہو گا۔ میرے پاس ابھی کوئی حتمی تاریخ نہیں ہے، لیکن امید ہے کہ امسال ہم چاروں رہنماؤں کے ایک ساتھ بیٹھنے کا وقت نکال لیں گے۔ ہماری، یعنی وزارتوں کی ذمہ داری ہے کہ ہم اس ملاقات کے لیے ایسی تیاری کریں کہ جب یہ رہنما اکٹھے بیٹھیں تو وہ کسی اہم اعلان کے لیے وہاں موجود ہوں۔ ایسا اعلان جو پہلے سے تیار ہو، جس پر کام ہو چکا ہو اور جس پر ہم سب مل کر آئندہ کام کرنے والے ہوں۔

سوال: شکریہ۔ آئیے اب ایران پر بات کرتے ہیں۔ یہ اس وقت اہم ترین موضوع ہے۔ میرا مطلب ہے کہ اس معاہدے کی تفصیلات سے متعلق کئی طرح کی باتیں سننے میں آ رہی ہیں۔ ایسی بہت سی اطلاعات ہیں کہ آیا ایران یورینیم سے دستبردار ہونے کے لیے تیار ہے یا نہیں۔ آپ اس بارے میں ہمیں کیا بتا سکتے ہیں۔

وزیر خارجہ روبیو: میں یہ کہوں گا کہ اسے سمجھنے کے دو طریقے ہیں۔ آپ کو دو چیزیں دیکھنا ہیں۔ پہلا آبنائے کا معاملہ ہے۔ وہاں جو کچھ کیا جا رہا ہے وہ غیر قانونی، ناجائز، غیر ذمہ دارانہ، خطرناک اور ناقابل قبول ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ پوری دنیا کو یہ بات کہنی چاہیے اور دنیا کے بیشتر ممالک یہی کہہ رہے ہیں۔ انڈیا یہ کہہ رہا ہے، امریکہ کا بھی یہی مؤقف ہے۔ جہاں تک میں نے دیکھا ہے، چین نے بھی گزشتہ ہفتے ہمیں بتایا کہ ایسا نظام نہیں چل سکتا جس میں کوئی ملک کسی بین الاقوامی آبی گزرگاہ پر قبضہ کر لے اور ان جہازوں کو نشانہ بنائے جو اسے محصول ادا کرنے پر رضامند نہ ہوں۔ ایسا نہیں ہو سکتا اور اسے معمول بننے نہیں دیا جا سکتا۔ اسی لیے، آبنائے کو فوری اور مکمل طور پر کھولا جائے۔ یہ اس معاملے کا پہلا مرحلہ ہے۔

دوسری بات یہ کہ، ایران کو تین اہم معاملات پر سنجیدہ مذاکرات کرنا ہوں گے: ان کی جانب سے یہ یقین دہانی درکار ہے کہ وہ کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کریں گے، ان کی یورینیم افزودہ کرنے کی صلاحیتوں پر طویل مدتی پابندیاں ہوں گی اور یہ کہ، انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کا کیا کرنا ہو گا۔ 60 فیصد تک افزودہ یورینیم رکھنے کا کوئی جواز نہیں جب تک کہ اسے 90 فیصد تک لے جا کر جوہری اسلحہ بنانے کا ارادہ نہ ہو۔ لہٰذا، ان تمام امور پر کھل کر بات کرنا ضروری ہے۔

یہ نہایت تکنیکی نوعیت کے معاملات ہیں۔ ان پر کام کرنے میں وقت درکار ہو گا۔ ظاہر ہے کہ اگر ایران واقعی ان باتوں پر اتفاق کرتا ہے اور یہ مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو اسے بدلے میں فوائد بھی حاصل ہوں گے۔ لہٰذا، آبنائے کھولی جائے، سنجیدہ مذاکرات کیے جائیں اور ایسے نتیجے پر پہنچا جائے جس میں ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کرے اور افزودگی اور انتہائی افزودہ یورینیم سے متعلق مسائل بھی حل ہو جائیں۔ یقیناً اس کے عوض انہیں فوائد بھی حاصل ہوں گے۔ یہ آسان بات چیت نہیں ہو گی لیکن دنیا کے لیے فوری اہمیت کا قدم یہ ہے کہ آبنائے دوبارہ کھول دی جائے۔ ہم ایسا نظام قبول نہیں کر سکتے جس میں کوئی فریق محصول وصول کرے اور تجارتی جہازوں کو تباہ کرنے کی دھمکیاں دے۔ ایسا جاری نہیں رہ سکتا۔

سوال: کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ آپریشن فیوری دوبارہ شروع کر سکتے ہیں؟

وزیر خارجہ روبیو: میں ایک مرتبہ پھر کہوں گا، صدر نے واضح کر دیا ہے کہ وہ یہ یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدام کریں گے کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔ ان کی ترجیح ہو گی کہ اس مسئلے کو مذاکرات اور سفارتی طریقے سے حل کیا جائے اور ہم اس مقصد کے لیے ہر ممکن موقع سے کام لیں گے۔ لیکن بالآخر، اگر یہ طریقہ کارگر نہ ہوا تو صدر کے پاس دوسرا انتخاب بھی موجود ہے۔ تاہم یہ ہماری ترجیح نہیں ہے۔ ہماری اولین ترجیح یہی ہے کہ اس معاملے کو مذاکراتی معاہدے کے ذریعے حل کیا جائے اور ہم اسی سمت میں کام کر رہے ہیں۔

سوال: آپ نے چین کا حوالہ دیا۔ آپ حالیہ دنوں چین میں موجود تھے۔ آپ کو سینیٹ میں چائنا ہاک بھی کہا جاتا ہے۔ چین کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے آپ کا اندازہ کیا ہے؟

وزیر خارجہ روبیو: بنیادی بات یہ ہے کہ امریکہ اور چین دنیا کی دو سب سے بڑی معیشتیں ہیں اور دونوں کے پاس طاقتور عسکری صلاحیتیں بھی موجود ہیں۔ امریکہ کے پاس دنیا کی سب سے طاقتور فوج ہے جبکہ چین اس وقت غالباً تاریخ کی سب سے بڑی اور تیز رفتار عسکری توسیع کر رہا ہے۔ لہٰذا سوال یہ ہے کہ دونوں ممالک کے مابین تعلقات ہونے چاہییں۔ ہمیں ایک دوسرے سے بات کرنے کے قابل ہونا ہو گا، رابطہ برقرار رکھنا ہو گا اور باقاعدہ شمولیت بھی ضروری ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے دورے سے پہلے اور بعد میں یہ واضح ہوا کہ دونوں ممالک کے درمیان کئی بڑے اختلافات بھی رہیں گے اور ان اختلافات کو سنبھالنا ہو گا کیونکہ، اگر انہیں درست انداز میں منظم نہ کیا گیا اور وہ بڑی کشیدگی میں بدل گئے تو یہ نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پوری دنیا کے لیے بھی نقصان دہ ہو سکتا ہے۔

لہٰذا، یہ اس اعتبار سے ایک اہم دورہ تھا کہ ہمارے ممالک کو ایک دوسرے سے بات کرنے کے قابل ہونا چاہیے، لیکن یہ بھی واضح ہے کہ کچھ مخصوص معاملات ایسے ہیں جن پر ہم متفق نہیں ہوں گے۔ کچھ مسائل ایسے ہیں جنہیں ہمیں حل کرنا ہو گا اور جو شاید انہیں پسند نہ آئیں، جیسا کہ اہم معدنیات اور تجارتی مقاصد کے لیے اشیا کی ترسیل کے حوالے سے ان پر حد سے زیادہ انحصار کا معاملہ ہے۔ لیکن میرا خیال ہے کہ اس ترسیلی نظام کو متنوع بنانے کا تصور صرف امریکہ تک ہی محدود نہیں ہے۔ دنیا کے کئی دیگر ممالک بھی اسی نتیجے پر پہنچ رہے ہیں۔

یقیناً اس میں کوئی شک نہیں کہ اختلافات بھی ہوں گے اور ایسے معاملات بھی جنہیں ہمیں سنبھالنا ہو گا لیکن چین اور امریکہ جیسے دو ممالک کے لیے ضروری ہے کہ وہ رابطے میں رہیں اور ایک دوسرے سے بات کر سکیں کیونکہ آپ ہر ممکن حد تک ایسی کسی بھی صورتحال سے بچنا چاہتے ہیں جو دنیا کے کسی بھی حصے میں عدم استحکام کا باعث بن سکتی ہو اور میرا خیال ہے کہ ایسا ممکن ہے۔

سوال: آپ نے انسداد دہشت گردی کی کوششوں اور اس سلسلے میں انڈیا کے ساتھ تعاون پر بات کی۔ جنوری 2026 میں امریکی دفتر خارجہ کی سمندر پار سلامتی سے متعلق مشاورتی کونسل نے پاکستان میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کے بارے میں ایک رپورٹ جاری کی تھی اور میرا خیال ہے کہ اس میں بتایا گیا تھا کہ پاکستان میں دہشت گردی 35 فیصد بڑھی ہے۔ کیا کسی موقع پر امریکہ یہ جائزہ لینا چاہے گا کہ اسے پاکستان کی جانب سے ہونے والی دہشت گردی سے کیسے نمٹںا ہے؟

وزیر خارجہ روبیو: ہم دہشت گردی سے نمٹنا چاہتے ہیں چاہے وہ کہیں سے بھی کی جائے۔ میرا مطلب یہ ہے کہ اگر کہیں مسلح گروہ موجود ہیں جو لوگوں کو قتل کرنے اور دہشت گردی کی کارروائیاں کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور وہ کسی بھی ملک کے اندر سرگرم ہیں تو ہمیں اس مسئلے کو حل کرنا ہو گا۔ ہمیں اپنے ہی نصف کرے میں اس صورت حال کا سامنا ہے۔ اس وقت میکسیکو کی سرزمین پر انتہائی خطرناک جرائم پیشہ گروہ سرگرم ہیں اور ہم میکسیکو کی حکومت کے ساتھ شراکت داری میں ان سے نمٹ رہے ہیں۔ ہمیں اس حوالے سے کچھ حد تک کامیابی بھی ملی ہے جبکہ بعض حالات میں یہ کوششیں ناکافی رہیں۔ اس کے علاوہ کئی اور علاقے بھی ہیں، جیسا کہ افریقہ، جہاں دہشت گردی میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ حالیہ عرصہ میں، مثال کے طور پر، ہمیں نائجیریا جیسے ممالک کے ساتھ ان عناصر کے خلاف کارروائی کرنے کا موقع بھی ملا ہے۔

لہٰذا، میں امید رکھوں گا کہ ہم پاکستانی حکام کے ساتھ مل کر ان انتہائی خطرناک گروہوں کے خلاف کارروائی کر سکیں گے جن سے خطرہ لاحق ہے اور بالآخر یہ ریاست کے لیے بھی خطرہ بن سکتے ہیں، لیکن فوری طور پر یہ خطے کے لوگوں اور امریکہ کے مفادات کے لیے خطرہ ہیں۔ اسی لیے، جہاں کہیں بھی بھی دہشت گردی ہمارے قومی مفادات اور قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہو، ہم اس پر قابو پانا چاہتے ہیں۔ بہتر صورت یہی ہے کہ یہ کام باہمی تعاون سے ہو۔ اگر یہ گروہ کسی ملک کے اندر موجود ہوں تو اس ملک کی حدود میں اور اس ملک کے ساتھ مل کر کارروائی ہونی چاہیے۔


اصل عبارت پڑھنے کا لنک: https://www.state.gov/releases/office-of-the-spokesperson/2026/05/secretary-of-state-marco-rubio-with-rohit-sharma-of-india-today/

یہ ترجمہ ازراہ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔


This email was sent to stevenmagallanes520.nims@blogger.com using GovDelivery Communications Cloud on behalf of: Department of State Office of International Media Engagement · 2201 C Street, NW · Washington, DC · 20520 GovDelivery logo

No comments:

Page List

Blog Archive

Search This Blog

The Next Names Don’t Look Obvious Yet

...