Sunday, March 1, 2026

ایران کے بارے میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں خطاب

Department of State United States of America

یہ ترجمہ امریکی دفترخارجہ کی جانب سے ازراہ نوازش پیش کیا جارہا ہے۔



اقوام متحدہ میں امریکی مشن
28 فروری، 2026
اقوام متحدہ میں امریکہ کے نمائندہ مائیک والز
نیویارک، نیویارک

شکریہ۔ معزز مندوبین: تاریخ کا یہ لمحہ اخلاقی وضاحت کا تقاضا کرتا ہے اور صدر ٹرمپ نے وقت کے تقاضے کو پورا کیا ہے۔

کسی بھی خودمختار حکومت کی سب سے بنیادی ذمہ داری اپنے عوام کا تحفظ کرنا ہے۔

آپریشن ایپک فیوری مخصوص اور تزویراتی اہداف کے حصول کے لیے ترتیب دیا گیا ہے کہ: ایسے میزائل نظام کو ناکارہ بنانا جو اتحادیوں کے لیے خطرہ ہیں، ان بحری اثاثوں کو کمزور کرنا جو بین الاقوامی سمندری راستوں میں عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں اور اس نظام کو منتشر کرنا جو آلہ کار ملیشیاؤں کو مسلح کرتا ہے اور یقینی بنانا کہ ایران کی حکومت کبھی دنیا کو جوہری ہتھیار سے دھمکی نہ دے سکے۔

جیسا کہ صدر ٹرمپ نے گزشتہ شب کہا، کئی دہائیوں سے ایران کی حکومت نے دانستہ طور پر دنیا کو عدم استحکام سے دوچار کیا ہے۔ اس نے امریکہ کے فوجیوں اور شہریوں کو ہلاک کیا، علاقائی اتحادیوں کو دھمکیاں دیں اور بین الاقوامی جہاز رانی کی سلامتی کو خطرے میں ڈالا جس پر پوری دنیا کا انحصار ہے۔ اس کی جانب سے حوثیوں، حزب اللہ اور حماس جیسی دہشت گرد قرار دی گئی اپنی آلہ کار تنظیموں کی بھرپور سرپرستی نے مشرق وسطیٰ میں طویل عرصہ تک خونریزی اور بدامنی پیدا کی ہے۔ یہ کوئی قیاس آرائی نہیں بلکہ ہم جانتے ہیں کہ یہ حقیقت ہے اور ہمارے مرد و خواتین نے اس حکومت اور پاسداران انقلاب کے اقدامات کی قیمت اپنی زندگیوں کی صورت میں چکائی ہے۔

کوئی بھی ذمہ دار قوم مسلسل جارحیت اور تشدد کو نظرانداز نہیں کر سکتی۔

تہران کی حکومت نے ایسے حملوں کی قیادت کی ہے جن کے نتیجے میں امریکہ کے لوگوں کی جانیں ضائع ہوئیں، لبنان میں امریکہ کے سیکڑوں میرین اور عراق میں ہزاروں فوجی اہلکار نشانہ بنے، ایک کے بعد ایک امریکی یرغمالی نے اذیتیں جھیلیں، بحیرہ احمر میں ہمارے جہازوں پر درجنوں مرتبہ فائرنگ کی گئی۔ ایران نے مسلح تنظیموں کو اسلحہ اور مالی وسائل فراہم کیے ہیں جو قانونی حکومتوں کو کمزور اور پہلے سے نازک خطے کو مزید عدم استحکام سے دوچار کرتے ہیں۔

ایران کی جانب سے جدید میزائل صلاحیتوں کے حصول کی مسلسل کوششیں اور سفارتی مواقع کے باوجود جوہری عزائم ترک کرنے سے انکار ایک سنگین اور بڑھتا ہوا خطرہ ہے۔ عالمی برادری نے طویل عرصہ سے ایک سادہ اور ضروری اصول کی توثیق کی ہے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا۔ یہ سیاست کا معاملہ نہیں بلکہ عالمگیر سلامتی کا تقاضا ہے۔ امریکہ اسی مقصد کے تحت قانونی اقدامات کر رہا ہے۔

اس ادارے، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اس خطرے پر بارہا کارروائی کی ہے۔ بیس سال قبل، 2006 سے آغاز کرتے ہوئے، قرارداد 1696 میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ ایران یورینیم کی افزودگی اور اس سے متعلقہ تمام ری پراسیسنگ سرگرمیاں معطل کرے۔ یہ اقدام اقوام متحدہ کے منشور کے ساتویں باب کے تحت ایک قانونی طور پر پابند قرارداد کی صورت میں کیا گیا۔ جب ایران اس پر عمل کرنے میں ناکام رہا تو کونسل، اسی کونسل نے قرارداد 1737 منظور کی جس کے تحت لازمی پابندیاں عائد کی گئیں جن میں جوہری مواد اور ٹیکنالوجی کی فراہمی پر پابندی، جوہری پروگرام سے وابستہ اہم افراد اور اداروں کے اثاثے منجمد کرنا اور پابندیوں کی نگرانی کے لیے ایک کمیٹی کا قیام شامل تھا۔

بعد ازاں منظور کی جانے والی قراردادوں، 1747 (2007) کے تحت اسلحہ پر عائد پابندیوں اور اثاثوں کے انجماد کو مزید وسعت دی گئی، قرارداد 1803 (2008) میں دہرے استعمال کی اشیا پر پابندیاں سخت کی گئیں اور ایران کے تجارتی سامان کی تلاشی کا مطالبہ کیا گیا، قرارداد 1835 (2008) نے مکمل تعمیل کی ضرورت کی توثیق کی اور قرارداد 1929 (2010) سب سے زیادہ جامع تھی جس میں بیلسٹک میزائل سرگرمیوں پر پابندی، روایتی اسلحہ پر پابندیوں کو مزید سخت کرنا، پاسداران انقلاب اور جہاز رانی کی کمپنیوں کو ہدف بنانا اور ایران کے نئے بینکاری تعلقات پر قدغن شامل تھیں۔ ان تمام اقدامات نے ایران کے جوہری اور میزائل پروگرام کو محدود کرنے کے لیے ایک مضبوط کثیرالفریقی طریقہ کار تشکیل دیا۔

یہ تمام اقدامات بھی اقوام متحدہ کے منشور کے ساتویں باب کے تحت اختیار کیے گئے جو عالمی برادری کے اس اجتماعی فیصلے کے عکاس تھے کہ ایران کے افعال بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔

متبادل راستے کے لیے متعدد مواقع کے باوجود ایران اپنی ہٹ پر قائم رہا اور سلامتی کونسل نے گزشتہ سال 19 ستمبر 2025 کو یہ اقدامات یعنی اس پر پابندیاں بحال کرنے کا فیصلہ کیا جو ایک واضح پیغام ہے کہ دنیا خطرات اور جزوی حل کو قبول نہیں کرے گی اور تہران کو جوابدہ ٹھہرایا جائے گا۔

اقوام متحدہ کے ان اقدامات کے علاوہ، امریکہ کی جانب سے خلوص نیت سے بارہا سفارتی کوشش کی گئی۔ صدر ٹرمپ، وزیر خارجہ روبیو اور ہمارے خصوصی نمائندے وٹکاف اور کشنر نے مسائل کا سفارتی حل نکالنے کے لیے مسلسل کوششیں کیں۔ لیکن سفارت کاری اس وقت کامیاب نہیں ہو سکتی جب تک جارحیت ختم کرنے پر حقیقی آمادگی اور امن کے لیے کوئی مخلص فریق موجود نہ ہو۔

جیسا کہ آج صدر ٹرمپ نے براہ راست ایران کے عوام سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ایران کے قابل فخر عظیم عوام کے لیے پیغام ہے کہ ان کی آزادی کا لمحہ قریب ہے۔ پوری دنیا نے اس حکومت کی جانب سے معصوم شہریوں کے بڑے پیمانے پر قتل کا مشاہدہ کیا ہے۔ افسوسناک ستم ظریفی یہ ہے کہ یہی حکومت آج ہمیں انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی کے بارے میں نصیحت کرنے کی کوشش کرے گی۔ یہاں کونسل میں اس کی موجودگی اس ادارے کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔

لیکن جہاں اقوام متحدہ میں اخلاقی وضاحت کی کمی ہو گی وہاں امریکہ اسے برقرار رکھے گا۔

آج ہمارے علاقائی اتحادیوں کویت، متحدہ عرب امارات، بحرین، قطر، اردن، سعودی عرب اور دیگر کے خلاف ایران کی حکومت کے اندھا دھند اور بلا اشتعال حملوں سے واضح ہوتا ہے کہ ہماری جانب سے یہ اقدامات کیوں ضروری ہیں۔ اس حکومت نے نہ صرف عسکری اثاثوں بلکہ بنیادی شہری ڈھانچے کو بھی نشانہ بنایا۔ جو ہمارے ساتھ کھڑے ہیں انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ان کی سلامتی پر کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے۔ ہمارے اتحادیوں کی حفاظت مشروط نہیں بلکہ یقینی ہے۔ ساتھیو، بنیادی بات یہ ہے کہ ہمارے اتحادی اور شراکت دار امریکہ اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر بھروسہ کر سکتے ہیں۔

ساتھیو، امن ایسے عناصر کو خوش کرنے سے قائم نہیں رہتا جو اسے خطرے میں ڈالتے ہیں۔ امن دہشت کے سامنے پوری قوت سے کھڑا ہونے پر برقرار رہتا ہے۔

تاریخ نے ہمیں یہ سکھایا ہے کہ بے عملی کی قیمت فیصلہ کن اقدام کے بوجھ سے کہیں زیادہ ہوتی ہے اور ہمارے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آج فیصلہ کن قدم اٹھایا ہے۔

میں آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔


اصل عبارت پڑھنے کا لنک:  https://usun.usmission.gov/remarks-at-an-emergency-un-security-council-briefing-on-iran/

یہ ترجمہ ازراہ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔


This email was sent to stevenmagallanes520.nims@blogger.com using GovDelivery Communications Cloud on behalf of: Department of State Office of International Media Engagement · 2201 C Street, NW · Washington, DC · 20520 GovDelivery logo

No comments:

Page List

Blog Archive

Search This Blog

Identity Theft News Update

Offices of the United States Attorneys You are subsc...