Thursday, January 8, 2026

وزیر خارجہ مارکو روبیو کی این بی سی کے پروگرام میٹ دی پریس میں کرسٹن واکر کے ساتھ بات چیت

Department of State United States of America

یہ ترجمہ امریکی دفترخارجہ کی جانب سے ازراہ نوازش پیش کیا جارہا ہے۔



امریکی محکمہ خارجہ
ترجمان کا دفتر
انٹرویو
04 جنوری، 2026
میامی، فلوریڈا

سوال: اس وقت میرے ساتھ وزیر خارجہ مارکو روبیو موجود ہیں۔ وزیرخارجہ  روبیو، میٹ دی پریس میں دوبارہ خوش آمدید۔

وزیر خارجہ روبیو: شکریہ۔

سوال: یہاں آنے کا بہت شکریہ۔ میں ایک بڑے تناظر کے سوال سے آغاز کرنا چاہتا ہوں۔ کیا اب امریکہ وینزویلا کے ساتھ حالت جنگ میں ہے؟

وزیر خارجہ روبیو: نہیں، کوئی جنگ نہیں ہے۔ میرا مطلب ہے کہ ہم منشیات کی سمگلنگ میں ملوث تنظیموں کے خلاف حالت جنگ میں ہیں۔ یہ وینزویلا کے خلاف جنگ نہیں ہے۔ ہم تیل سے متعلق پابندیوں کے حوالے سے امریکہ کے قوانین نافذ کر رہے ہیں۔ ہم نے بعض اداروں پر پابندیاں عائد کی ہیں۔ ہم عدالت سے وارنٹ لیتے ہیں اور تیل لے جانے والے ان جہازوں کو ضبط کر لیتے ہیں۔ یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ لہٰذا بات بالکل واضح ہے اور ہم یہ حق محفوظ رکھتے ہیں کہ منشیات لے جانے والی کشتیوں کے خلاف کارروائی کریں جو امریکہ کی طرف منشیات لا رہی ہیں اور جنہیں سرحد پار مجرمانہ تنظیمیں چلا رہی ہیں جن میں کارٹیل دے لوس سولیس بھی شامل ہے۔ اس کارٹیل کا سربراہ جو اس کا رہنماء ہے، اس وقت امریکہ کی تحویل میں ہے اور نیویارک کے جنوبی ضلع میں امریکی انصاف کا سامنا کر رہا ہے اور وہ نکولس مادورو ہے۔ اس حوالے سے ہم نے بڑی پیش رفت کی ہے۔

سوال: لیکن جناب وزیرٖخارجہ ، میرا خیال ہے کہ اس عبوری دور میں یہ واضح نہیں کہ اصل ذمہ دار افراد کون ہیں۔ صدر ٹرمپ نے کہا ہے، ہم ملک چلانے جا رہے ہیں۔ تو پھر یہ آپ ہیں، وزیر دفاع ہیگسیٹ ہیں یا کوئی اور؟ خاص طور پر کون لوگ ملک چلا رہے ہوں گے؟

وزیر خارجہ روبیو: دراصل بات ملک چلانے کی نہیں بلکہ پالیسی چلانے کی ہے، اس معاملے سے متعلق پالیسی کی۔ ہم چاہتے ہیں کہ وینزویلا ایک خاص سمت میں آگے بڑھے کیونکہ ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ نہ صرف یہ وینزویلا کے عوام کے لیے بہتر ہے بلکہ یہ ہمارے قومی مفاد میں بھی ہے۔ یا تو یہ ہماری قومی سلامتی کے لیے کسی خطرے سے متعلق ہوتا ہے یا پھر کسی ایسی چیز سے جو ہمارے قومی مفاد کے لیے فائدہ مند یا نقصان دہ ہو سکتی ہے۔

سوال: جناب وزیر خارجہ، کیا آپ اس عبوری عمل میں شامل ہیں؟

سیکریٹری روبیو: جی ہاں، ظاہر ہے کہ میرا اس میں بہت سا کردار ہے۔ میرا مطلب ہے، میرے خیال میں سبھی جانتے ہیں کہ میں اس خطے کی سیاست میں خاصا متحرک ہوں، خاص طور پر بطور وزیر خارجہ اور قومی سلامتی کے مشیر کی حیثیت سے میرا ان تمام معاملات میں اہم کردار ہے۔

مثال کے طور پر، محکمہ جنگ یہاں ایک نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے، اسی طرح محکمہ انصاف بھی، کیونکہ عدالت سے رجوع کرنا انہی کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ لہٰذا یہ ہمارے ملک کے قومی سلامتی کے نظام کی مشترکہ کوشش ہے۔ مگر اصل بات اس پالیسی کو نافذ کرنے کی ہے اور اس پالیسی کا مقصد وینزویلا میں ایسی تبدیلیاں دیکھنا ہے جو سب سے پہلے امریکہ کے لیے فائدہ مند ہوں کیونکہ ہم اسی کے لیے کام کرتے ہیں لیکن ہم یہ بھی سمجھتے ہیں کہ یہ وینزویلا کے ان عوام کے لیے بھی فائدہ مند ہوں گی جنہوں نے بے حد مشکلات جھیلی ہیں۔

ہم وینزویلا کے لیے ایک بہتر مستقبل چاہتے ہیں اور ہمارا خیال ہے کہ وینزویلا کے عوام کا بہتر مستقبل پورے خطے کے لیے استحکام کا باعث بنے گا اور ہمارے پڑوس کو ایک زیادہ محفوظ اور بہتر جگہ بنا دے گا۔

سوال: صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ کی انتظامیہ مادورو کی نائب صدر، ڈیلسی روڈریگز کے ساتھ کام کر رہی ہے۔ ایسا ہے تو انتظامیہ حزب اختلاف کی رہنماء ماریا کورینا ماچادو کے ساتھ کام کرنے کی مخالف کیوں ہے؟ وہ تو نوبیل امن انعام یافتہ بھی ہیں۔ ان کے اتحاد کو وینزویلا کے 70 فیصد عوام کی حمایت حاصل ہے۔ ان کے ساتھ کام کیوں نہیں کیا جا رہا؟

وزیر خارجہ روبیو: ٹھیک ہے، اس میں چند باتیں ہیں۔ سب سے پہلے تو یہ کہ ماریا کورینا ماچادو ایک شاندار شخصیت ہیں اور میں انہیں ایک طویل عرصہ سے جانتا ہوں اور وہ پوری تحریک بھی ایسی ہی ہے۔ لیکن اصل بات یہ ہے کہ ہم اس وقت زمینی حقائق سے نمٹ رہے ہیں۔ فوری حقیقت یہ ہے کہ بدقسمتی سے، اور یہ واقعی افسوسناک ہے کہ حزب اختلاف کی اکثریت اب وینزویلا کے اندر موجود ہی نہیں ہے۔ ہمارے سامنے کچھ قلیل مدتی مسائل ہیں جنہیں فوری حل کرنا ضروری ہے۔

ہم سب وینزویلا کے لیے ایک روشن مستقبل دیکھنا چاہتے ہیں اور جمہوریت کی طرف منتقلی کے خواہاں ہیں۔ یہ سب باتیں بہترین ہیں اور ہم سب یہی چاہتے ہیں۔ میں نے ذاتی طور پر گزشتہ 15 سال سے اس پر کام کیا ہے، چاہے وہ سینیٹ میں ہو یا اب قومی سلامتی کے مشیر اور وزیر خارجہ کی حیثیت سے ہو۔ یہ وہ معاملات ہیں جن کی ہمیں آج بھی فکر ہے۔

لیکن اس وقت ہم جس چیز پر بات کر رہے ہیں وہ یہ ہے کہ آئندہ دو، تین ہفتوں اور آئندہ دو تین ماہ میں کیا ہونے والا ہے اور یہ سب امریکہ کے قومی مفاد سے کیسے جڑا ہوا ہے۔ اسی لیے ہم اب پہلے سے زیادہ تعاون اور عملدرآمد کی توقع رکھتے ہیں۔

نکولس مادورو کے ساتھ آپ کوئی معاہدہ یا انتظام نہیں کر سکتے تھے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اسے بہت فراخدلانہ پیشکش کی گئی تھیں۔ وہ ڈیڑھ ہفتہ پہلے تک بھی وینزویلا چھوڑ سکتا تھا۔ اس کے پاس اس سارے معاملے سے بچنے کے مواقع موجود تھے کیونکہ وہ ایسا شخص نہیں ہے جس کے ساتھ ہم کام کر سکیں۔ اس نے بائیڈن انتظامیہ کو احمقانہ معاہدوں میں پھنسا دیا۔ اس نے معاہدے پورے نہ کرنے اور وقت لے کر خود کو بچانے کو ہی اپنا وطیرہ بنا لیا۔ ہم اور صدر ٹرمپ اس جال میں دوبارہ پھنسنے والے نہیں تھے۔

اب وہاں فوج اور پولیس کے نظام کی ذمہ داری دوسرے لوگوں کے ہاتھ میں ہے۔ اب انہیں یہ فیصلہ کرنا ہو گا کہ وہ کس سمت جانا چاہتے ہیں اور ہمیں امید ہے کہ وہ اس راستے کا انتخاب کریں گے جو نکولس مادورو کی راہ سے مختلف ہو گا۔

بالآخر، ہمیں امید ہے کہ اس کے نتیجے میں وینزویلا میں سماجی، سیاسی اور ہر سطح پر ایک جامع تبدیلی آئے گی ۔ ہم ان تمام باتوں کے حق میں ہیں۔ لیکن اس وقت ہمیں ابتدائی اقدامات کرنا ہیں اور وہ اقدامات امریکہ کے قومی مفاد کو محفوظ بنانے کے ساتھ وینزویلا کے عوام کے لیے فائدہ مند ہونا چاہییں۔ یہی وہ چیزیں ہیں جن پر ہم اس وقت توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔ اب منشیات کی مزید سمگلنگ نہیں ہو گی اور وہاں ایران اور حزب اللہ کی مزید موجودگی بھی نہیں ہو گی۔

سوال: جی۔

وزیر خارجہ روبیو: تیل کی صنعت کو اب اس لیے استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا کہ وہ دنیا بھر میں ہمارے دشمنوں کو دولت مند بنائے جبکہ نہ تو وینزویلا کے عوام کو اس کا فائدہ پہنچے اور نہ ہی، سچ کہوں تو، امریکہ اور پورے خطے کو۔

سوال: آپ ایک جامع تبدیلی کی بات کر رہے ہیں۔ اس وقت توجہ ممکنہ انتخابات پر بھی ہے۔ جناب وزیرخارجہ، انتخابات کتنا جلد ہوں گے؟ کیا 30 یوم کے اندر؟

وزیر خارجہ روبیو: انتخابات؟ دیکھیے، یہ وہ ملک ہے جس پر گزشتہ 14 یا 15 برس سے یہی نظام حکومت کر رہا ہے۔ انتخابات تو بہت پہلے ہو جانا چاہیے تھے۔ انتخابات ہوئے بھی تھے، وہ ہار گئے تھے، لیکن انہوں نے ووٹوں کی گنتی  ہی نہیں کی، یا گننے سے انکار کر دیا اور یہ بات سب جانتے ہیں۔ اسی لیے میرا خیال ہے کہ اس مرحلے پر ان باتوں پر گفتگو قبل از وقت ہے۔ یہاں ابھی بہت سا کام باقی ہے۔

اس وقت، اگر ہم حقیقت پسندانہ بات کریں تو ہماری توجہ ان تمام مسائل پر مرکوز ہے جو مادورو کے دور میں موجود تھے اور اب بھی موجود ہیں اور جنہیں حل کرنا ضروری ہے۔ ہم لوگوں کو ان مسائل سے نمٹنے کا موقع دیں گے۔ جب تک وہ ان مسائل کو حل نہیں کرتے، انہیں تیل کی اس ناکہ بندی کا سامنا کرنا پڑے گا، انہیں امریکہ کی طرف سے دباؤ کا سامنا رہے گا۔ اگر منشیات لے جانے والی کشتیاں امریکہ کی طرف آنے کی کوشش کریں گی تو ہم انہیں نشانہ بناتے رہیں گے۔ جن جہازوں پر پابندیاں ہیں، ہم عدالتی احکامات کے تحت انہیں ضبط کرتے رہیں گے۔ ہم یہ سب کچھ جاری رکھیں گے اور ممکن ہے اس کے علاوہ بھی اقدامات کریں یہاں تک کہ وہ مسائل حل نہ ہو جائیں جنہیں ہم حل ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں۔

کیونکہ بالآخر، سب سے بڑھ کر، انتخابات ہی ہمارے لیے اہم ہیں، جمہوریت ہمارے لیے اہم ہے، ہم ان سب باتوں کی فکر کرتے ہیں لیکن سب سے اہم چیز جس کی ہمیں فکر ہے وہ امریکہ کی سلامتی، تحفظ، فلاح و بہبود اور خوشحالی ہے۔ یہی وہ چیز ہے جس پر ہم سب سے پہلے اور سب سے زیادہ توجہ دیں گے اور یہی وہ مقصد ہے جس کے لیے یہ پالیسیاں اور یہ تبدیلیاں ضروری ہیں۔

سوال: صدر ٹرمپ نے نیویارک پوسٹ کو بتایا ہے کہ، جب تک ڈیلسی روڈریگز 'وہی کچھ کرتی رہیں جو ہم چاہتے ہیں' تو اس وقت تک وینزویلا میں امریکی فوج نہیں جائے گی ۔ لیکن وہ تو پہلے ہی نکولس مادورو کی رہائی کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں، وہ اس بات پر بھی زور دے رہی ہیں کہ ان کا ملک کبھی کسی کا نوآبادیاتی غلام نہیں بنے گا۔ آخر وہ کون سے اقدامات ہیں جو روڈریگز کو کرنا ہوں گے تاکہ امریکی فوج وینزویلا میں داخل نہ ہو؟

وزیر خارجہ روبیو: دیکھیے، امریکی فوج والی بات کو ایک طرف رکھ دیجیے۔ اصل سوال یہ ہے کہ ان سب چیزوں میں تبدیلی کے لیے، یعنی وینزویلا کے ساتھ ہمارے تعلقات میں تبدیلی اور اس ساتھ ہمارے پورے طرزعمل میں تبدیلی کے لیے کیا ہونا چاہیے۔ یہ وہی باتیں ہیں جن کا میں پہلے ہی ذکر کر چکا ہوں۔

آپ ہمارے ملک کو جرائم پیشہ گروہوں کے ارکان سے نہیں بھر سکتے۔ آپ اس ملک میں منشیات کی یلغار نہیں کر سکتے جو کولمبیا سے وینزویلا کے راستے آتی ہیں اور جس میں آپ کی سکیورٹی فورسز کے بعض عناصر کا تعاون شامل ہوتا ہے۔ آپ وینزویلا کو ایران، روس، حزب اللہ، چین اور کیوبا کے انٹیلی جنس اہلکاروں کی کارروائیوں کا مرکز نہیں بنا سکتے جو اس ملک کو کنٹرول کرتے ہیں۔ یہ سب کچھ جاری نہیں رہ سکتا۔

یہ بھی ممکن نہیں کہ دنیا میں خام تیل کے سب سے بڑے ذخائر امریکہ کے دشمنوں کے کنٹرول میں ہوں جن سے نہ وینزویلا کے عوام کو کوئی فائدہ پہنچے اور نہ ہی وہ دولت عوام تک پہنچ سکے بلکہ دنیا بھر میں اور وینزویلا میں موجود چند امیر کبیر لوگوں کے ہاتھوں لوٹی جائے۔

ہم نے دیکھا ہے کہ دنیا بھر میں ہمارے مخالفین کس طرح افریقہ اور دوسرے براعظموں کے وسائل کا استحصال اور لوٹ مار کر رہے ہیں۔ اب وہ مغربی نصف کرے میں ایسا نہیں کریں گے۔

سوال: جی۔

وزیر خارجہ روبیو: وہ ایسا نہیں کریں گے۔ صدر ٹرمپ کے دور میں ایسا ہرگز نہیں ہو گا۔ ہماری قومی سلامتی کی حکمت عملی پڑھ لیجیے۔ وہ اس معاملے میں سنجیدہ ہیں اور وہ اس پر عمل بھی کریں گے اور ہم عملی طور پر ایسا کر رہے ہیں۔

سوال: آئیے ذرا بڑے تناظر میں بات کریں۔ تاریخی طور پر دیکھا جائے تو امریکہ کی جانب سے عراق اور لیبیا جیسے ممالک میں حکومتوں کی تبدیلی اس کے لیے زیادہ کامیاب ثابت نہیں ہوئی۔ کیا آپ امریکہ کے عوام کو یقین دہانی کرا سکتے ہیں کہ اس مرتبہ صورتحال مختلف ہو گی؟

وزیر خارجہ روبیو: دیکھیے، دراصل جو کچھ ہوا ہے وہ یہ ہےکہ ہمارے اندر ایک طرح کا خوف اور مخصوص سوچ پیدا ہو گئی ہے۔ سب سے پہلی بات یہ ہے کہ جن نام نہاد ماہرین کو لوگ ٹیلی ویژن پر بلاتے ہیں، میں انہیں دیکھتا ہوں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے یہ ایک مذاق بن چکا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنی پوری پیشہ ورانہ زندگی مشرق وسطیٰ یا دنیا کے کسی اور حصے پر مرکوز رکھی کیونکہ تمام تر توجہ وہیں رہی۔ ان میں سے بہت کم لوگ وینزویلا یا مغربی نصف کرے کے بارے میں واقعی کچھ جانتے ہیں۔

وینزویلا، لیبیا جیسا نہیں ہے۔ یہ عراق جیسا نہیں ہے۔ یہ افغانستان جیسا نہیں ہے۔ یہ مشرق وسطیٰ جیسا بالکل نہیں ہے، سوائے اس کے، کہ وہاں ایران کے ایجنٹ موجود ہیں جو امریکہ کے خلاف سازشیں کر رہے ہیں۔ یہ مغربی ممالک ہیں جن کی عوامی اور ثقافتی سطح پر طویل روایات ہیں اور امریکہ کے ساتھ ان کے گہرے تعلقات رہے ہیں۔ لہٰذا اس کا ان مثالوں سے کوئی موازنہ نہیں بنتا۔

اسی لیے میرا خیال ہے کہ لوگوں کو سیب اور سنگترے کو ایک جیسا سمجھنا چھوڑ دینا چاہیے یعنی مشرق وسطیٰ کے حالات کو مغربی نصف کرے کے حالات پر لاگو نہیں کرنا چاہیے۔

دوسری بات۔

سوال: لیکن آپ۔

وزیر خارجہ روبیو: یہ امریکہ کے قومی مفاد کا معاملہ ہے اور مجھے پورا یقین ہے کہ ہم آج زیادہ محفوظ اور بہتر حالت میں ہیں کیونکہ ہم اس معاملے کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔ متبادل یہ ہوتا کہ ہم مادورو کو وہیں رہنے دیتے، جو منشیات سمگلنگ کے مقدمات میں نامزد ہے، اس طرح ایک غیر قانونی صدر ملک چلا رہا ہوتا اور وینزویلا کو ہمارے تمام دشمنوں کے لیے کھلا میدان بنا دیا جاتا تاکہ وہ امریکہ کے خلاف جو چاہیں کریں۔ یہ صورتحال جاری نہیں رہ سکتی تھی۔

اس کا متبادل یہ بھی ہوتا کہ ایک منشیات فروش کو قومی سرزمین اور ریاستی طاقت کے عناصر استعمال کرنے کی اجازت دی جاتی تاکہ وہ منشیات سمگلنگ میں ملوث تنظیموں کو مزید مضبوط کرے۔ فرد جرم پڑھ لیجیے۔ اس شخص نے اپنے سکیورٹی نظام کے اختیارات منشیات فروشوں کو گرفتار کرنے کے لیے استعمال نہیں کیے۔

سوال: جی، لیکن۔

وزیر خارجہ روبیو: بلکہ ان کے ساتھ تعاون کرنے اور منشیات کی سمگلنگ کو آسان بنانے کے لیے استعمال کیے، تاکہ وہ منشیات امریکہ تک پہنچا سکیں۔

سوال: اور۔

وزیر خارجہ روبیو: یہ سب کچھ اب بند ہو گا۔

سوال: جناب وزیر، کیا کیوبا کی حکومت ٹرمپ انتظامیہ کا اگلا ہدف ہے؟ بہت مختصر جواب دیجیے۔

وزیر خارجہ روبیو: کیوبا کی حکومت ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ جی ہاں، سب سے پہلے تو کیوبا کے عوام کے لیے یہ ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔

سوال: تو کیا اس کا مطلب ہاں ہے؟

وزیر خارجہ روبیو: لیکن میرا خیال ہے کہ لوگ اس بات کی سنگینی کو پوری طرح نہیں سمجھتے۔ میرا خیال ہے کہ وہ واقعی شدید مشکلات میں ہیں، جی ہاں۔ تاہم، میں اس وقت آپ کو اپنے آئندہ اقدامات یا پالیسیوں کی تفصیل نہیں بتاؤں گا۔

لیکن یہ کوئی راز نہیں کہ ہم کیوبا کی حکومت کے بڑے حامی نہیں ہیں اور ویسے بھی، یہی وہ لوگ ہیں جو مادورو کو سہارا دے رہے تھے۔ اس کا سلامتی کا پورا اندرونی نظام، اس کا داخلی حفاظتی ڈھانچہ مکمل طور پر کیوبا کے لوگوں کے کنٹرول میں تھا۔ اس تمام معاملے کی ایک حقیقت جو بہت کم بیان کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ، آپ نے نوآبادیات کی بات کی جیسا کہ ڈیلسی روڈرہگز نے ذکر کیا۔

سوال: جی ہاں۔

وزیر خارجہ روبیو: تو حقیقت یہ ہے کہ کم از کم حکومت کے اندر، اصل نوآبادیاتی کنٹرول کیوبا والوں کا تھا۔ مادورو کی حفاظت کیوبا کے لوگ کرتے تھے۔ اس کے محافظ وینزویلا کے نہیں تھے۔

سوال: ٹھیک ہے۔

وزیر خارجہ روبیو: اس کے پاس کیوبا سے تعلق رکھنے والے محافظ تھے اور جہاں تک اندرونی انٹیلی جنس کا تعلق ہے ۔

سوال: ٹھیک ہے۔

وزیر خارجہ روبیو: یعنی کون کس پر نظر رکھتا ہے، اور یہ یقینی بنانے کے لیے کہ کوئی غدار نہ ہو، یہ سب کام کیوبا کے لوگوں کے ہاتھ میں تھا۔


اصل عبارت پڑھنے کا لنک:  https://www.state.gov/releases/office-of-the-spokesperson/2026/01/secretary-of-state-marco-rubio-with-kristen-welker-of-nbcs-meet-the-press/

یہ ترجمہ ازراہ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اورصرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔


This email was sent to stevenmagallanes520.nims@blogger.com using GovDelivery Communications Cloud on behalf of: Department of State Office of International Media Engagement · 2201 C Street, NW · Washington, DC · 20520 GovDelivery logo

No comments:

Page List

Blog Archive

Search This Blog

U.S. Department of Justice Attorney Vacancies Update

You are subscribed to Attorney Vacancies for U.S. Department of Justice. This information has recently been up...