Monday, April 22, 2024

اٹلی 2024 : جی 7 کے وزرائے خارجہ کا مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر بیان

Department of State United States of America

یہ ترجمہ امریکی دفترخارجہ کی جانب سے ازراہ نوازش پیش کیا جارہا ہے۔



امریکی دفتر خارجہ
ترجمان کا دفتر
19 اپریل، 2024

درج ذیل بیان کا متن جی 7 میں شامل کینیڈا، فرانس، جرمنی، اٹلی، جاپان، برطانیہ اور امریکہ کے وزرائے خارجہ اور یورپی یوین کے اعلیٰ سطحی نمائندے کی جانب سے جاری کیا گیا۔

1۔ ایران

یورپی یونین کے اعلیٰ سطحی نمائندے اور ہم یعنی کینیڈا، فرانس، جرمنی، اٹلی، جاپان، برطانیہ اور امریکہ کے وزرائے خارجہ 13 اور 14 اپریل کو اسرائیل کے خلاف ایران کے براہ راست اور غیرمعمولی شدت کے حملے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ اسرائیل نے اپنے شراکت داروں کی مدد سے اس حملے کو ناکام بنایا۔ یہ خطرناک کشیدگی تھی جس میں ایران نے سینکڑوں بیلسٹک میزائل، کروز میزائل اور ڈرون استعمال کیے۔

ہم ایران کی جانب سے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پرتگال کے پرچم بردار تجارتی بحری جہاز، ایم ایس سی ایریس پر ایران کے مسلح اہلکاروں کے سوار ہونے اور اسے قبضے میں لینے کے اقدام کی بھی مذمت کرتے ہیں۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب یہ جہاز آبنائے ہرمز کے قریب سفر کر رہا تھا۔ ہم ایران سے اس بحری جہاز، اس کے عملے اور اس پر موجود سامان کو فوری طور پر چھوڑنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔

اسرائیل اور اس کے عوام کو ہماری مکمل یکجہتی اور حمایت حاصل ہے اور ہم اسرائیل کی سلامتی کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہیں۔ ایران کے افعال خطے کو عدم استحکام اور مزید کشیدگی سے دوچار کرنے کے ناقابل قبول اقدامات ہیں اور اِس صورتحال سے بچنا ہو گا۔ 19 اپریل کو کیے جانے والے حملوں کے حوالے سے ہم تمام فریقین پر زور دیتے ہیں کہ وہ مزید کشیدگی سے بچنے کے لیے کام کریں۔ جی7 ممالک اس مقصد کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔

ہم خطے اور اس سے باہر تمام فریقین سے کہتے ہیں کہ وہ اِس مشترکہ کوشش میں اپنا مثبت کردار ادا کریں۔

ہم ایران سے کہتے ہیں کہ وہ حماس کو مدد فراہم کرنے اور خطے کو غیرمستحکم کرنے کے مزید اقدامات سے باز رہے جن میں لبنان کی حزب اللہ اور دیگر غیرریاستی اداروں کو مہیا کی جانے والی اس کی مدد بھی شامل ہے۔ ایران کی جانب سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2216 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے حوثیوں اور خطے میں دیگر غیرریاستی کرداروں کو اسلحے اور دیگر جنگی سا زوسامان کی فراہمی سے کشیدگی میں خطرناک طور سے اضافہ ہو رہا ہے۔ ہم تمام ممالک پر زور دیتے ہیں کہ وہ ایران کے ڈرون (یو اے وی) اور دیگر میزائل پروگراموں کے لیے پرزوں اور دیگر اشیا کی فراہمی کو روکیں۔

ہم ایران اور اس سے منسلکہ گروہوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنے حملے بند کریں۔ ہم ایران کی حکومت کو اس کی مخاصمانہ اور عدم استحکام پیدا کرنے والی کاروائیوں پر جوابدہ ٹھہرائیں گے۔ نیز، ہم اب اور عدم استحکام پیدا کرنے والی مستقبل کی کاروائیوں کے جواب میں مزید پابندیاں عائد کرنے کی خاطر دیگر اقدامات اٹھانے کے لیے تیار ہیں۔

ہم اپنے اس عزم کا اعادہ کرتے ہیں کہ ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیاروں کی تیاری یا ان کے حصول کے قابل نہیں ہونا چاہیے۔ ہم ایران پر زور دیتے ہیں کہ وہ جوہری کشیدگی کا خاتمہ کرے اور یورینیم کو افزودہ کرنے کی سرگرمیوں کو بند کرے۔ جوہری توانائی کے عالمی ادارے (آئی اے ای اے) کی جانب سے سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 میں فراہم کردہ فریم ورک میں بتایا گیا ہے کہ ان سرگرمیوں کے غیرعسکری مقاصد سے متعلق کوئی مصدقہ ثبوت موجود نہیں اور ان سے جوہری پھیلاؤ کے نمایاں خطرات لاحق ہیں۔ ایران کی حکومت کو چاہیے کہ وہ اس طرزعمل کا خاتمہ کرے اور 'آئی اے ای اے' کے ساتھ مکمل تعاون کرتے ہوئے سنجیدہ بات چیت میں شامل ہو کر یہ یقین دہانی کرائے کہ اس کا جوہری پروگرام صرف پُرامن مقاصد کے لیے ہے۔ ہم ایران کی جوہری ذمہ داریوں اور وعدوں کی نگرانی اور تصدیق کے حوالے سے 'آئی اے ای اے' کے نگران کردار کی حمایت کرتے ہیں اور ہمیں حالیہ عرصے میں اس کی جانب سے ادارے کے ساتھ تعاون نہ کرنے پر سخت تشویش ہے۔

ہمیں ایسی اطلاعات پر بھی گہری تشویش ہے کہ ایران روس کو بیلسٹک میزائل اور متعلقہ ٹیکنالوجی منتقل کرنے پر غور کر رہا ہے۔ ہم ایران سے کہتے ہیں کہ وہ ایسا نہ کرے کیونکہ ان ہتھیاروں سے روس کو یوکرین کے خلاف جنگ میں مدد ملے گی۔ اگر ایران نے روس کو بیلسٹک میزائل یا متعلقہ ٹیکنالوجی فراہم کی تو ہم فوری اور مربوط انداز میں اس کا جواب دینے کے لیے تیار ہیں جس میں ایران کے خلاف نئے اور ٹھوس اقدامات بھی شامل ہوں گے۔

ہم ایران میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور پامالیوں، بالخصوص خواتین، لڑکیوں اور اقلیتی گروہوں کے حقوق سلب کیے جانے پر، اپنی گہری تشویش کا اعادہ کرتے ہیں۔ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل کی جانب سے ایران میں حقائق سے آگاہی حاصل کرنے کے لیے مقرر کردہ غیرجانبدار مشن کی 8 مارچ کو جاری کردہ رپورٹ سے بھی اس کی تصدیق ہوتی ہے۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملک میں 'خواتین، زندگی، آزادی' کے لیے کیے جانے والے مظاہروں میں شریک لوگوں کے خلاف جو کارروائی عمل میں لائی گئی وہ انسانیت کے خلاف جرائم کے مترادف ہے۔

ہم ایران کی جانب سے دہری شہریت کے حامل اور غیرملکی  شہریوں کو ہدف بنانے اور انہیں ناجائز طور پر گرفتار کیے جانے کی بھی مذمت کرتے ہیں اور اس کی قیادت پر زور دیتے ہیں کہ وہ تمام غیرمنصفانہ اور ناجائز حراستوں کا خاتمہ کرے۔ ہم ایران کی جانب سے بیرون ملک اپنے سیاسی منحرفین اور مخالفین کو ہراساں کرنے، دھمکانے اور ان کے قتل کی منصوبہ بندی کرنے کی مذمت کرتے ہیں جن میں صحافی اور مذہبی رہنما بھی شامل ہیں۔ ہم ایران کی جانب سے یہودیوں اور ان کے اداروں کو حملوں کا نشانہ بنانے کی بھی مذمت کرتے ہیں۔

2۔ غزہ کا تنازع

ہم 7 اکتوبر 2023 کو حماس اور دیگر دہشت گرد گروہوں کی جانب سے اسرائیل پر وحشیانہ حملوں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق استعمال کرتے ہوئے بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کی مکمل پاسداری کرنی چاہیے۔ حماس تمام یرغمالیوں کو فوری اور غیرمشروط طور پر رہا کرے۔ ہم حماس اور دیگر دہشت گرد گروہوں کی جانب سے اسرائیل میں جنسی تشدد کے ارتکاب کی ہولناک اطلاعات کی مکمل تحقیقات اور ایسے افعال کے ذمہ داروں کے محاسبے پر زور دے رہے ہیں۔

ہم سویلین لوگوں کی زندگیوں کو پہنچنے والے ہر قسم کے نقصانات پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں اور ہمیں غزہ میں بہت بڑی تعداد میں خواتین، بچوں اور مشکل حالات کا شکار ہونے والے لوگوں کی ہلاکتوں پر تشویش ہے۔ ہم غزہ میں تباہ کن اور بڑھتے ہوئے انسانی بحران، خصوصاً پورے علاقے میں شہریوں کو درپیش سنگین حالات سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ہم رفح میں بڑے پیمانے پر عسکری کارروائی کی مخالفت کا اعادہ کرتے ہیں جس کے شہری آبادی پر تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔ ہم علاقے میں شہریوں کو تحفظ دینے اور ان کی امدادی ضروریات پوری کرنے کی قابل بھروسہ اور قابل عمل مںصوبہ بندی کے مطالبے کا اعادہ کرتے ہیں۔ ہمیں غزہ میں لوگوں کے بے گھر ہونے اور ان کی غزہ سے جبری نقل مکانی کے خدشے پر گہری تشویش ہے۔ اسرائیل کو چاہیے کہ وہ بین الاقوامی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریوں کی مطابقت سے عمل کرے اور شہریوں سے انسانی اور باوقار سلوک کو یقینی بنائے۔ اسے چاہیے کہ وہ غلطیوں کے قابل اعتبار الزامات کی مفصل اور شفاف تحقیقات کرے اور شہریوں کے حقوق کی پامالی یا خلاف ورزی پر احتساب کو یقینی بنائے۔

ہم غزہ کی بڑی آبادی کو درپیش قحط کے خطرے کے پیش نظر علاقے میں امداد کی فراہمی میں نمایاں اضافے کے لیے مخصوص، ٹھوس اور واضح اقدامات کی فوری ضرورت پر زور دیتے ہیں۔ ہم اسرائیلی حکومت کی جانب سے اعلان کردہ اقدامات پر فوری عملدرآمد کے لیے بھی کہتے ہیں جن میں موجودہ زمینی سرحدی راستوں کے ذریعے بڑے پیمانے پر امداد پہنچانے میں سہولت دینا، نئے زمینی راستے کھولنا اور شمالی غزہ میں امداد کی فراہمی میں سہولت دینا بھی شامل ہیں جہاں امدادی ضروریات سب سے زیادہ ہیں۔ ہم غزہ کے لیے اشد ضروری امداد کی مقدار بڑھانے کے لیے اقوام متحدہ کے اشتراک سے سمندری راہداری کے قیام کی کوششوں کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ ہم واضح کرتے ہیں کہ ایسی راہداریوں کو زمینی راستے سے امداد کی بڑے پیمانے پر اور متواتر فراہمی کا متبادل ہونے کے بجائے اس امداد میں مزید اضافے کا ذریعہ ہونا چاہیے۔

ہر طرح کی انسانی امداد کی مکمل، تیزتر، محفوظ اور بلارکاوٹ فراہمی بدستور اولین ترجیح ہے۔ ہم اسرائیل سے کہتے ہیں کہ وہ بین الاقوامی اور مقامی امدادی کارکنوں، صحافیوں اور فلسطینی شہریوں کا تحفظ یقینی بنانے کے لیے مزید اقدامات کرے، امدادی سرگرمیوں کو حملوں سے تحفظ دینے کا طریقہ کار بہتر بنائے، امدادی مقاصد کے لیے موثر روابط کا اہتمام کرے اور امدادی کارکنوں اور شہریوں کو نقصان پہنچانے کے واقعات پر مکمل احتساب کو یقینی بنائے۔ ہم تمام فریقین سے کہتے ہیں کہ وہ خوراک، پانی، طبی نگہداشت، بجلی، ایندھن اور پناہ کی بلا رکاوٹ فراہمی کی اجازت دیں، بنیادی خدمات کی بحالی میں سہولت فراہم کریں اور اس طرح کے مقامات پر امدادی کارکنوں کی رسائی کق یقینی بنانے میں تعاون کریں۔ تمام فریقین شہریوں بالخصوص خواتین، بچوں اور جسمانی معذوریوں کے حامل افراد کو بین الاقوامی انسانی قانون کی مطابقت سے بہرصورت تحفظ فراہم کریں۔

اس بحران کے آغاز سے ہی جی7 ممالک کے اتحاد نے غزہ کی آبادی کو بڑے پیمانے پر مدد پہنچائی ہے۔ ہم اپنے اس  کام کو جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہیں اور تمام شراکت داروں پر زور دیتے ہیں کہ وہ اس ضمن میں اپنی کوششوں کو مزید بہتر بنائیں۔ ہم  اٹلی کی جانب سے ایف اے او، ڈبلیو ایف پی اور آئی ایف آر سی (انٹرنیشنل فیڈریشن آف ریڈ کراس اینڈ ریڈ کریسنٹ سوسائٹی) کے تعاون سے 'غزہ کے لیے خوراک کی فراہمی' کا اقدام شروع کیے جانے کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد علاقے میں غذائی تحفظ اور بنیادی صحت کی صورتحال کو بہتر طور سے یقینی بنانا ہے۔

ہم امداد کی فراہمی میں اقوام متحدہ کے اداروں اور دیگر امدادی کرداروں کے اہم کردار کا اعتراف کرتے ہیں۔ غزہ میں امداد کی فراہمی میں 'انروا' کا اہم کردار رہا ہے۔ ہم اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی جانب سے اس ادارے کے عملے کے خلاف الزامات کی تحقیقات شروع کرنے اور ادارے میں ضروری اصلاحات پر عملدرآمد کے لیے ایک غیرجانبدارانہ جائزہ گروپ مقرر کرنے کے فوری فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ ہم متفق ہیں کہ 'انروا' اور اقوام متحدہ کے دیگر اداروں کو اپنی ذمہ داریاں موثر طور سے انجام دیتے ہوئے انتہائی ضرورت مند لوگوں تک امداد کی فراہمی ممکن بنانے کا پوری طرح اہل ہونا چاہیے۔

ہم تمام یرغمالیوں کی فوری رہائی اور دیرپا فائربندی کا مطالبہ کرتے ہیں جس سے غزہ بھر میں فوری طور پر درکار انسانی امداد کی مقدار فوری طور پر بڑے پیمانے پر بڑھائی جا سکے۔ اس تناظر میں ہم امریکہ اور علاقائی شراکت داروں کی جانب سے ثالثی کے لیے جاری کوششوں کی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔ اس کا مقصد تنازع کا پائیدار طور سے خاتمہ ممکن بنانا ہے تاکہ تمام یرغمالی فوری طور پر واپس آ سکیں، غزہ میں انسانی امداد کی مقدار بڑھائی جا سکے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2712، 2720 اور 2728 پر فوری عملدرآمد ہو سکے۔ حماس کی جانب سے یرغمالیوں کی رہائی سے انکار سے یہ تنازع طول پکڑتا جا رہا ہے اور شہریوں کی مشکلات بڑھتی جا رہی ہیں۔

ہم فلسطینی اتھارٹی کی نئی کابینہ کا خیرمقدم کرتے ہیں اور اسے اُن اصلاحات میں مدد دینے کے لیے تیار ہیں جن کی  اسے  اِس تنازع کے بعد غزہ اور مغربی کنارے میں اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کے قابل بنانے کے لیے ضرورت ہے۔

ہم حماس کو مزید مظالم کے ارتکاب کے لیے مالی وسائل جمع کرنے کی صلاحیت سے محروم کرنے کے لیے پابندیوں کے نفاذ اور دیگر اقدامات سے بھی کام لے رہے ہیں۔ اسی طرح ہم دہشت گردی کی ترغیب دینے والے مواد کے آن لائن پھیلاؤ کو روکنے کے لیے بھی سرگرم عمل ہیں۔

تمام فریقین ایسے یکطرفہ اقدامات سے گریز کریں جن سے مسئلے کے دو ریاستی حل کا امکان کمزور ہوتا ہو۔ ہمیں مغربی کنارے میں آباد کاروں کے تشدد میں اضافے پر تشویش ہے۔ فلسطینی آبادیوں کے خلاف پرتشدد افعال کا ارتکاب کرنے والے انتہاپسند آباد کاروں کا محاسبہ ہونا چاہیے۔

اس تنازع کا قابل عمل حل مربوط علاقائی کوشش کی بدولت ہی ممکن ہے۔ ہم دو ریاستی حل اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی بنیاد پر مستحکم امن کے قیام کے لیے پرعزم ہیں جس میں اسرائیلیوں اور فلسطینیوں دونوں کو تحفظ کی ضمانت  حاصل ہو۔ ہم یروشلم میں مقامات مقدسہ کی تاریخی حیثیت برقرار رکھنے کے لیے کہتے ہیں۔ ہم اس پر متفق ہیں کہ فلسطینی ریاست کے حتمی علاقے کا تعین 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر ہونے والی بات چیت کے ذریعے ہونا چاہیے۔ مناسب وقت پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا اس سیاسی عمل کا ایک اہم جزو ہو گا۔

ہم خطے میں اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر اس تنازع کو مزید پھیلنے سے روکنے کے لیے بھرپور انداز میں کام کر رہے ہیں۔ ہمیں لبنان اور اسرائیل کی سرحد (بلیو لائن) کے حالات پر خاصی تشویش ہے۔ ہم لبنان کی مسلح افواج (ایل اے ایف) اور لبنان میں اقوام متحدہ کی عبوری فوج (یونیفل) کی جانب سے خطرات میں کمی لانے کے لیے ادا کیے جانے والے استحکامی کردار کا اعتراف کرتے ہیں۔ ہم تمام متعلقہ فریقین پر زور دیتے ہیں کہ وہ تحمل سے کام لیں اور کشیدگی میں کمی لانے کے لیے کوششیں کریں۔

ہم مذہب یا عقیدے کی بنیاد پر ہر طرح کی تفریق اور تشدد کے مخالف ہیں اور مذہبی اقلیتی گروہوں کے تمام ارکان کو موثر طور سے تحفظ دینے کے لیے کہتے ہیں۔ ہم ہر طرح کی یہود مخالفت اور مسلم نفرت کو سختی سے مسترد کرتے ہیں۔

3۔ بحیرہ احمر میں سمندری نقل و حرکت کی آزادی

ہم حوثیوں کی جانب سے بحیرہ احمر اور خلیج عدن میں تجارتی بحری جہازوں اور ان کی حفاظت پر مامور بحری افواج کے جہازوں پر حملوں کے ارتکاب کی مذمت کرتے ہیں۔ ہمیں بحری جہاز 'ٹرو کانفیڈنس' کے عملے کے تین بے گناہ ارکان کی ہلاکت اور 'روبیمر' کو ڈبوئے جانے پر سخت تشویش ہے جس سے سمندری نقل و حمل اور ماحول کو سنگین خطرات لاحق ہوئے ہیں۔ ہم حوثیوں سے بحری جہاز 'گلیکسی لیڈر' اور اس کے عملے کو فوری طور پر آزاد کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں جسے 19 نومبر 2023 کو پکڑا گیا تھا۔ ہم سلامتی کونسل کی قرارداد 2722 کی مطابقت سے ان ممالک کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کرتے ہیں جو بین الاقوامی قانون کے تحت اپنے بحری جہازوں کو حملوں سے بچانے کے اپنے حق کو بروئے کار لا رہے ہیں۔ ہم عالمی برادری سے اقوام متحدہ، بحیرہ احمر کے ساحلی ممالک اور علاقائی و نیم علاقائی اداروں کے قریبی تعاون سے مزید کشیدگی کو روکنے کے لیے مشترکہ کوششوں کا بھی کہتے ہیں۔

ہم ان اہم بحری راستوں کو تحفظ دینے کے لیے یورپی یونین کی سمندری کارروائی 'ایسپیڈیس'  اور امریکہ کے زیرقیادت کارروائی 'تحفظِ خوشحالی' کا خیرمقدم کرتے ہیں جس میں برطانیہ اور 10 دیگر ممالک بھی تعاون کر رہے ہیں۔

ہمیں بحیرہ احمر کے راستے ایندھن، خام مال اور دیگر اشیا کی ترسیل میں حائل رکاوٹوں پر تشویش ہے۔ حوثیوں کے حملوں سے اس خطے کے ممالک ہی سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ ضروری اشیا کو آزادانہ طور پر ان کی منزل اور دنیا بھر کی آبادیوں تک پہنچانے کےحوالے سے، سمندری تحفظ اور نقل و حرکت کے حقوق اور آزادیاں یقینی بنانے کو اہم کردار حاصل ہے۔ اس میں یمن، سوڈان اور ایتھوپیا کی نصف سے زیادہ آبادی کو اشد ضروری انسانی امداد کی فراہمی بھی شامل ہے۔

4۔ یمن

ہم یمن کی صورتحال اور خاص طور پر یمنی آبادی کو درپیش حالات پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔ یمن کے مسئلے کے فریقین تمام ضرورت مند لوگوں تک انسانی امداد کی محفوظ، تیزتر اور بلارکاوٹ فراہمی کی اجازت دیں، خواتین کی نقل و حرکت کی آزادی اور انسانی امداد کی فراہمی میں حائل رکاوٹوں کا خاتمہ کریں۔ تمام فریقین کو چاہیے کہ وہ بین الاقوامی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔

ہم اقوام متحدہ اور یمن کے لیے اس کے نمائندہ خصوصی ہینز گرنڈبرگ کی جانب سے یمن میں تنازع کے حل کے لیے کی جانے والی کوششوں کی بھرپور حمایت کا اعادہ کرتے ہیں۔

ہم دسمبر 2023 میں صدارتی قیادت کی کونسل اور حوثیوں کے درمیان طے پانے والے سمجھوتے کا خیرمقدم کرتے ہیں جس میں ملک بھر میں جنگ بندی اور رہن سہن کے حالات بہتر بنانے کے اقدامات کے وعدے بھی شامل ہیں۔ ہم تمام متعلقہ فریقین اور خصوصاً حوثیوں پر زور دیتے ہیں کہ وہ سول سوسائٹی کی مشاورت سے اور اقوام متحدہ کے زیراہتمام مشمولہ سیاسی عمل کی تیاریوں میں نیک نیتی سے شامل ہوں۔

ہم انسانی حقوق بشمول بچوں کے حقوق کی خلاف ورزیوں اور بین الاقوامی قانون کی پامالیوں کا ارتکاب کرنے والوں کے محاسبے کا مطالبہ بھی کرتے ہیں۔

5۔ شام

ہم اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2254 کی مطابقت سے شام کے عوام کے زیرقیادت اور انہی کے لیے سیاسی عمل کی حمایت کے لیے پرعزم ہیں اور اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے جیئر او پیڈرسن کو دی جانے والی ذمہ داریوں میں ان سے مکمل تعاون کا عہد کرتے ہیں۔ ہم شام کی حکومت سے کہتے ہیں کہ وہ اقوام متحدہ کی سہولت سے ہونے والے سیاسی عمل میں بامعنی طور سے شرکت کرے تاکہ اس بحران کا پرامن حل اور قومی مفاہمت ممکن ہو سکے۔ حالات کو معمول پر لانے، تعمیرنو اور پابندیوں کے خاتمے کے اقدامات، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2254 کے تحت ایک قابل اعتبار، مشمولہ اور پائیدار سیاسی عمل کے فریم ورک کے ذریعے ہی زیرغور لائے جا سکیں گے۔ شام میں امن و استحکام داعش کی پائیدار شکست کے بغیر ممکن نہیں۔ داعش کے خلاف عالمی اتحاد کے ارکان کی حیثیت سے ہم شام میں اس تنظیم کی موجودگی کا خاتمہ کرنے کا عزم رکھتے ہیں۔

ہم شام میں بین الاقوامی انسانی قانون اور انسانی حقوق کے بین الاقوامی قانون کی پامالیوں کا ارتکاب کرنے والے تمام کرداروں کے احتساب اور متاثرین کو انصاف کی فراہمی کے لیے پرعزم ہیں۔ ہم شام میں حکومت کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی مذمت کرتے ہیں۔ ہم شام کی حکومت پر زور دیتے ہیں کہ وہ سلامتی کونسل کی قرارداد 2118 کے تحت اپنی ذمہ داریوں اور کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی ممانعت کے کنونشن کی پاسداری کرے اور اپنے کیمیائی ہتھیاروں کے پروگرام کو مکمل اور قابل اعتبار طور پر ختم کرے۔

ہم شام میں ناجائز طور پر قید تمام شہریوں کی فوری رہائی اور جبراً لاپتہ کیے گئے افراد کے بارے میں اطلاعات فراہم کرنے کے مطالبے کو دہراتے ہیں۔ ہم اس حوالے سے انکوائری کمیشن اور بین الاقوامی آزادانہ و غیرجانبدار طریقہ کار جیسے اداروں کے کام کی حمایت کرتے ہیں جس نے شام میں کیے گئے جرائم کی تفصیلات جمع کی ہیں۔ ہم شام میں لاپتہ افراد کے بارے میں اقوام متحدہ کے نو تشکیل شدہ غیرجانبدار ادارے کو اس کے کام میں تعاون مہیا کرنے کے لیے تیار ہیں۔

ہم انسانی امداد کی فراہمی کے ذریعے شام کے لوگوں کی مدد جاری رکھیں گے جس میں فوری بحالی کے لیے دی جانے والی امداد اور استحکام پیدا کرنے کے اقدامات بھی شامل ہیں۔ ہم شام کی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ شام کے تمام لوگوں کو ہر طریقے سے انسانی امداد کی فراہمی میں سہولت دے۔ اس میں اقوام متحدہ کے زیراہتمام سرحد پار امداد پہنچانے کا اقدام بھی شامل ہے جس کا کوئی اور متبادل نہیں ہے۔ ہم شام کے پناہ گزینوں کی مسلسل میزبانی کرنے پر علاقائی ممالک کے مشکور ہیں اور شام کی حکومت سے کہتے ہیں کہ وہ ان لوگوں کی رضاکارانہ، محفوظ اور باوقار واپسی کے لیے سازگار حالات کو یقینی بنائے۔

اِس ضمن میں شام اور خطے کے مستقبل سے متعلق آئندہ آٹھویں برسلز کانفرنس کا اعلٰی سطحی رابطے برقرار رکھنے اور بین الاقوامی برادری کو اکٹھا کرنے میں اہم کردار ہو گا۔


اصل عبارت پڑھنے کا لنک: https://www.state.gov/g7-italy-2024-foreign-ministers-statement-on-the-situation-in-the-middle-east/

یہ ترجمہ ازراہ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔


This email was sent to stevenmagallanes520.nims@blogger.com using GovDelivery Communications Cloud on behalf of: Department of State Office of International Media Engagement · 2201 C Street, NW · Washington, DC · 20520 GovDelivery logo

No comments:

Page List

Blog Archive

Search This Blog

It's July 4th. You have until midnight.

America's 250th. The Freedom Event's last day. ͏  ͏  ͏  ͏  ͏  ͏  ͏  ͏  ͏  ͏  ͏  ͏  ͏  ͏  ͏  ͏  ͏  ͏  ͏  ͏  ͏  ͏  ͏  ͏  ͏  ͏  ͏  ͏ ...