Tuesday, April 23, 2024

وزیر خارجہ اینٹںی جے بلنکن کا انسانی حقوق کے بارے میں 2023 کی رپورٹ کے اجرا پر خطاب

Department of State United States of America

یہ ترجمہ امریکی دفترخارجہ کی جانب سے ازراہ نوازش پیش کیا جارہا ہے۔



امریکی محکمہ خارجہ
ترجمان کا دفتر
22 اپریل، 2024
ہیری ایس ٹرومین بلڈنگ
واشنگٹن، ڈی سی

وزیر خارجہ بلنکن: مجھے انسانی حقوق کی صورتحال پر 2023 کی رپورٹ کے اجرا کے لیے یہاں آنے پر خوشی ہے۔ گزشتہ سال کے اختتام پر ہم نے انسانی حقوق کے عالمگیر اعلامیے کی 75ویں سالگرہ منائی اور اس بنیادی تصور کی توثیق کی کہ تمام انسان آزاد پیدا ہوئے ہیں اور ان کا وقار اور حقوق برابر ہیں۔ 75 برس پہلے ان الفاظ نے بہت سے عالمگیر حقوق کا احاطہ کیا تھا جن میں شہری، سیاسی، معاشی، سماجی و ثقافتی حقوق اور اظہار، اپنے رہنماؤں کے انتخاب، اپنی خواہش کے مطابق عبادت کرنے، حصول تعلیم اور منصفانہ کام کے حقوق شامل ہیں۔

آزادی اور انسانی حقوق کی حمایت میں کھڑا ہونا درست کام ہے۔ تاہم ان ناقابل انتقال اور عالمگیر حقوق کے دفاع اور فروغ سے ہمارا بہت بڑا قومی مفاد بھی وابستہ ہے۔ جو ممالک انسانی حقوق کا احترام کرتے ہیں ان کے پُرامن، خوشحال اور مستحکم ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔

آج ہم جو رپورٹ سامنے لا رہے ہیں وہ تقریباً 200 ممالک اور علاقوں میں انسانی حقوق کے ریکارڈ کا حقائق پر مبنی باقاعدہ جائزہ پیش کرتی ہے۔ اس میں ترقی یافتہ و ترقی پذیر، امریکہ کے مسابقین، اتحادیوں اور شراکت داروں سمیت سبھی ممالک کا ایک ہی معیار کے تحت جائزہ لیا گیا ہے۔ اگرچہ اس رپورٹ میں بیرون ملک انسانی حقوق کے حصول کی راہ میں درپیش مسائل کا احاطہ کیا گیا ہے لیکن ہم یہ تسلیم کرتے ہیں کہ اس معاملے میں امریکہ بھی مسائل سے پاک نہیں ہے۔ ہمارے جیسی جمہوریتوں کی طاقت یہ ہے کہ ہم اِن کمزوریوں اور خامیوں پر پردہ ڈالنے کے بجائے ان کا اعتراف کرتے اور ان پر قابو پاتے ہیں۔

اس رپورٹ سے یہ اندازہ بھی ہوتا ہے کہ عالمگیر اعلامیے میں بیان کردہ حقوق کو برقرار رکھنے کے لیے بہت سا کام باقی ہے۔ ایک مرتبہ پھر دنیا بھر میں انسانی حقوق اور قانون کو پہلے سے کہیں زیادہ حوالوں سے اور کہیں زیادہ جگہوں پر دباؤ کا سامنا ہے۔ بیلارس سے وینزویلا تک حکومتیں بااختیار لوگوں کے سامنے اپنے بہتر مستقبل کے لیے آواز اٹھانے والوں کو قید میں ڈال رہی ہیں۔ ان میں بہت سے لوگ نوجوان ہیں۔ کیوبا میں اندازاً 1,000 سیاسی قیدیوں کی اوسط عمر 32 سال ہے۔

افسوسناک طور سے، جیسا کہ ہم نے روس میں سزا یافتہ قیدیوں کی کالونی میں الیکسی نوالنی کی ناجائز قید کے معاملے میں دیکھا، ایسے لوگوں کو دوران اسیری ہولناک بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ایسے حالات میں ان کی موت بھی واقع ہو جاتی ہے یا انہیں ہلاک کر دیا جاتا ہے۔ روس جیسی حکومتیں غیرملکیوں کو بھی اپنے سیاسی مقاصد کے لیے ناجائز قید میں ڈالتی ہیں اور انسانوں کو سیاسی فائدے کی غرض سے اپنی شرائط منوانے کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ پال ویلن، ایوان گیرشکووچ اور دیگر تمام افراد کو رہا ہونا چاہیے جنہیں ناجائز حراست میں رکھا گیا ہے۔ امریکہ اور ہمارے بہت سے شراکت دار ان لوگوں کو اپنے خاندانوں کے ساتھ دوبارہ یکجا کرنے اور اس افسوناک عمل میں ملوث حکومتوں کا محاسبہ کرنے کے لیے روزانہ کام کرتے رہیں گے۔

اس کے ساتھ یہ رپورٹ بتاتی ہے کہ حکومتیں اپنی سرحدوں سے باہر بھی حقوق کی پامالیوں میں ملوث ہیں۔ نکارا گوا کی حکومت حقوق کے جلاوطن کارکنوں پر دباؤ ڈالنے اور انہیں سزا دینے کے لیے ان کے اثاثے ضبط کر رہی ہے۔ تاجکستان انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے اپنے ایسے شہریوں، وکلا اور صحافیوں کو جبراً واپس لانے کے لیے دیگر ممالک کے ساتھ کام کر رہا ہے جنہوں نے بیرون ملک پناہ لے رکھی ہے۔

رپورٹ میں ایسے مظالم کی تفصیل بھی دی گئی ہے جو انسانیت کے تاریک ترین وقتوں کی یاد دلاتے ہیں۔ سوڈان میں ملکی فوج اور ریپڈ سپورٹ فورسز نے جنگی جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔ میانمار میں روہنگیا اور شنگ جینگ میں ویغور نسل کشی اور انسانیت کے خلاف جرائم کا سامنا کر رہے ہیں۔ امریکہ ایسے مظالم کا ارتکاب کرنے والی حکومتوں کو اپنی گہری تشویش سے آگاہ کرتا رہے گا۔

یہ رپورٹ کمزور طبقات کے انسانی حقوق کی پامالیوں کے بارے میں بھی بتاتی ہے۔ افغانستان میں طالبان نے خواتین کے لیے کام کے مواقع محدود کر دیے ہیں، لڑکیوں کو تعلیم دینے والے اداروں کو بند کر دیا ہے اور وہاں 'غیراخلاقی طرز عمل' کے الزام میں خواتین اور مردوں کو کوڑے مارنے کے واقعات میں اضافہ ہو گیا ہے۔ یوگنڈا نے انسداد ہم جنس پرستی سے متعلق ظالمانہ قانون منظور کیا ہے جس کے تحت لوگوں کو ہم جنس افراد سے محبت کرنے پر عمر قید اور موت کی سزا بھی دی جا سکتی ہے۔

دنیا بھر کے ممالک اور خطوں میں حکام لوگوں کو دھمکانے، اطلاعات کو چھپانے اور نگرانی کے لیے ٹیکنالوجی سے کام لینے لگے ہیں۔ حکومتیں غلط اطلاعات پھیلانے حتیٰ کہ لوگوں کی اُن کے ڈی این اے کی بنیاد پر نگرانی کے لیے مصنوعی ذہانت کا استعمال کر رہی ہیں۔ انٹرنیٹ تک رسائی ختم یا محدود کی جا رہی ہے جیسا کہ ایران نے مھسا (ژینا) امینی کی ہلاکت کے بعد مظاہروں کو کچلنے کے لیے کیا تھا۔ شام  میں اسد حکومت اور دیگر عناصر صحافیوں اور حقوق کے کارکنوں کو نشانہ بنانے کے لیے 'کمرشل سپائی ویئر' استعمال کر رہے ہیں۔

امریکہ یہ یقینی بنانے کے لیے بھی فعال طور سے کام کر رہا ہے کہ نئی ٹیکنالوجی حقوق کو کمزور کرنے کے بجائے انہیں فروغ دینے کے لیے استعمال ہو۔ اس ٹیکنالوجی کو لوگوں سے امتیازی سلوک کرنے کے بجائے ان کے لیے مساوی مواقع بڑھانے کے لیے بروئے کار لایا جائے۔

اس کی ایک مثال یہ ہے کہ ہم نے اپنی ہم خیال حکومتوں کا ایک اتحاد قائم کیا ہے جس کا مقصد کمرشل سپائی ویئر کے پھیلاؤ اور غلط استعمال کو روکنا ہے۔ آج اپنی حکومت کی وسیع تر کوششوں کے تحت ہم ایک درجن سے زیادہ ایسے افراد پر پابندیاں عائد کر رہے ہیں جنہوں نے ایسے ہی قسم کے آلات تیار اور فروخت کر کے انسانی حقوق کی پامالیوں کا ارتکاب کیا۔

گزشتہ برس 7 اکتوبر کو اسرائیل پر حماس کے ہولناک حملے اور اسرائیل کی جانب سے ایسے حملوں کے دوبارہ ارتکاب کو یقینی طور پر روکنے کے لیے اپنے حق کو استعمال کرنے کے نتیجے میں غزہ میں ہونے والے تباہ کن انسانی نقصان نے بھی انسانی حقوق سے متعلق انتہائی پریشان کن خدشات پیدا کر دیئے ہیں۔

ہم اس تنازع کو ختم کرانے اور حماس و دیگر گروہوں کی قید میں تمام یرغمالیوں کی رہائی، بین الاقوامی انسانی قانون کو برقرار رکھنے، مزید تکالیف کو روکنے اور اسرائیلیوں اور فلسطینیوں دونوں کے لیے مزید پرامن اور محفوظ مستقبل تخلیق کرنے کے لیے دن رات کام کر رہے ہیں۔

یہ اس رپورٹ میں بیان کردہ بہت سے ممالک میں سے چند ایک کے حالات کا تذکرہ تھا۔ یہ رپورٹ بجائے خود ان بہت سے اقدامات میں سے ایک ہے جو امریکہ تمام لوگوں کے حقوق اور وقار کے احترام کو فروغ دینے کے لیے اٹھا رہا ہے۔ ہم گلوبل میگنٹسکی ایکٹ جیسی دو جماعتی حمائت یافتہ قانون سازی اور خشوگی پابندی جیسے ذرائع سے کام لیتے ہوئے ان لوگوں سے جواب طلبی کر رہے ہیں جو انسانی حقوق کی پامالیوں کا ارتکاب کرتے یا ان سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔

ان جیسی کوششوں اور خاص طور پر حقوق کے لیے اگلی صفوں میں کام کرنے والے کارکنوں اور شہریوں کی بدولت ہی گزشتہ برس اس معاملے میں بعض حوصلہ افزا اقدامات دیکھنے کو ملے۔ دنیا کے بعض حصوں میں 'ایل جی بی ٹی کیو آئی+' مخالف قوانین بنائے جانے کے باوجود ایستونیا سے جاپان اور ماریشس تک متعدد ممالک نے ایسے لوگوں کے حقوق کے لیے اہم اقدامات اٹھائے ہیں۔ اگرچہ بہت سے ممالک میں محنت کشوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والوں کو قید میں ڈالا اور ہلاک کیا گیا تاہم جنوبی افریقہ سے میکسیکو اور برازیل تک کئی ممالک میں محنت کشوں کی انجمنوں نے مزدوروں کے لیے حالات کار بہتر بنانے اور انہیں منظم کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ گزشتہ برس نومبر میں صدر بائیڈن کی جانب سے دنیا بھر میں محنت کشوں سے متعلق جاری کردہ حکم نامے کے بھی یہی مقاصد ہیں۔

جاپان نے یہ یقینی بنانے کے لیے اقدامات اٹھائے کہ جسمانی معذوری کے شکار بچے سکول جا سکیں اور انہیں ان کی ضرورت کے مطابق مدد فراہم کی جا سکے۔ ایسے اقدامات اس بات کی یاد دہانی ہیں کہ اگر دنیا بھر کے لوگ تمام افراد کے بنیادی وقار کو قائم رکھنے کے لیے کام کریں تو انسانی حقوق کے حوالے سے بہتری ممکن ہے۔

میں دفتر خارجہ میں اپنے پرعزم ساتھیوں، یہاں کام کرنے والے لوگوں اور دنیا بھر میں امریکہ کے سفارتی عملے کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اپنی بات کا اختتام کروں گا۔ ان لوگوں نے اس رپورٹ کو مرتب کرنے کے لیے مہینوں تک کڑی محنت سے کام کیا۔ میں انسانی حقوق کی پامالیوں کے واقعات کی تفصیل مرتب کرنے میں مدد دینے والے ہر فرد کے کردار کا بھی اعتراف کرنا چاہوں گا۔ ان میں وہ صحافی، انسانی حقوق کے محافظ اور عام شہری بھی شامل ہیں جنہوں نے اکثر اپنی ذات کے لیے سنگین خطرات مول لے کر یہ فرض نبھایا۔ آپ تمام لوگوں کے کام کی بدولت آج دنیا بھر میں انسانی حقوق کی صورتحال ہمارے سامنے واضح ہے اور اس طرح ہم مستقبل میں ان حقوق کو مزید مضبوط کرنے اور برقرار رکھنے کے لیے اپنے عہد کی تجدید کرتے ہیں۔


اصل عبارت پڑھنے کا لنک: https://www.state.gov/secretary-antony-j-blinken-on-the-2023-country-reports-on-human-rights-practices/

یہ ترجمہ ازراہ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔


This email was sent to stevenmagallanes520.nims@blogger.com using GovDelivery Communications Cloud on behalf of: Department of State Office of International Media Engagement · 2201 C Street, NW · Washington, DC · 20520 GovDelivery logo

No comments:

Page List

Blog Archive

Search This Blog