Monday, January 5, 2026

🚨It's Markdown Monday

Discover 136 clearance deals on costco.com, new in-warehouse clearance deals, & more!  ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌
twigtk

Costco97 is not affiliated with Costco corporate.
(But we secretly hope they 💗 us.)

 

Any brands, products, or commentary appearing in this email do not constitute an endorsement or affiliation with Costco Wholesale Corporation.

 

Update your email preferences or unsubscribe here

5000 Executive Parkway, Suite 445
San Ramon, CA 94583, United States of America

beehiiv logoPowered by beehiiv
Terms of Service

وزیر خارجہ مارکو روبیو کا اے بی سی کے پروگرام ‘اس ہفتے’ کے میزبان جارج سٹیفنوپولس کو انٹرویو

Department of State United States of America

یہ ترجمہ امریکی دفترخارجہ کی جانب سے ازراہ نوازش پیش کیا جارہا ہے۔



امریکی محکمہ خارجہ
ترجمان کا دفتر
برائے فوری اجراء
انٹرویو
میامی، فلوریڈا
04 جنوری، 2026

سوال: اس وقت ہمارے ساتھ وزیر خارجہ مارکو روبیو موجود ہیں۔ جناب وزیر خارجہ، اس صبح ہمارے ساتھ شامل ہونے کا شکریہ۔

وزیر خارجہ روبیو: شکریہ۔

سوال: صدر ٹرمپ نے کل خاصا واضح طور پر کہا کہ امریکہ وینزویلا کو چلائے گا۔ یہ کس قانونی اختیار کے تحت ہو گا؟

وزیر خارجہ روبیو: دیکھیے، سب سے پہلے تو یہاں جو ہونے جا رہا ہے وہ یہ ہے کہ ہم نے ان کے تیل پر قرنطینہ عائد کر دیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کی معیشت اس وقت تک آگے نہیں بڑھ سکے گی جب تک وہ شرائط پوری نہ ہو جائیں جو امریکہ کے قومی مفاد اور وینزویلا کے عوام کے مفاد میں ہیں اور ہم یہی کرنا چاہتے ہیں۔

لہٰذا یہ دباؤ برقرار رہے گا، یہ دباؤ جاری ہے اور ہمیں توقع ہے کہ اس کے نتائج سامنے آئیں گے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ اس سے وینزویلا کے عوام کے لیے مثبت نتائج برآمد ہوں گے، لیکن بالآخر اور سب سے بڑھ کر، یہ امریکہ کے قومی مفاد کے لیے ہو گا۔

امید ہے کہ ہم آگے بڑھتے ہوئے ایسے حالات پیدا کریں گے کہ ہمارے خطے میں اب ایسا وینزویلا نہ ہو جو دنیا بھر میں ہمارے بہت سے مخالفین کا ٹھکانہ بنے جن میں ایران اور حزب اللہ بھی شامل ہیں، جو اب ہمارے ملک میں منشیات کے گینگ نہ بھیجے، منشیات سے بھری کشتیاں نہ بھیجے اور جو کولمبیا سے آنے والی منشیات کے لیے سمگلنگ کی جنت نہ بنا رہے جو غرب الہند کے راستے امریکہ کی طرف آتی ہیں۔

یقیناً ہم وینزویلا کے عوام کے لیے ایک بہتر مستقبل چاہتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ان کے پاس تیل کی ایسی صنعت ہو جس کی دولت عوام تک پہنچے نہ کہ چند بدعنوان افراد تک اور جو دنیا بھر میں لٹیروں کے ہاتھوں لوٹی نہ جائے۔ یہی وہ مقصد ہے جس کے لیے ہم کام کر رہے ہیں اور ہم اس مقصد کے حصول میں مدد کے لیے اپنے پاس موجود دباؤ اور اثرورسوخ استعمال کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

سوال: میں سوال دوبارہ پوچھنا چاہوں گا کہ امریکہ کے پاس وینزویلا کو چلانے کا قانونی اختیار کیا ہے؟

وزیر خارجہ روبیو: دیکھیے، میں آپ کو بتا چکا ہوں کہ ہمارے اہداف کیا ہیں اور ہم انہیں حاصل کرنے کے لیے دباؤ کو کس طرح کام میں لائیں گے۔ جہاں تک تیل پر قرنطینہ لگانے کے ہمارے قانونی اختیار کا تعلق ہے تو یہ بہت سادہ ہے: ہمارے پاس عدالتی احکامات موجود ہیں۔ یہ پابندیوں کے تحت آنے والی کشتیاں ہیں اور ہمیں عدالتوں سے احکامات ملتے ہیں کہ ہم ان پابندیوں پر عمل درآمد کریں اور ان کشتیوں کو ضبط کریں۔ تو یہ، یعنی، مجھے نہیں معلوم، کیا عدالت کوئی قانونی اختیار نہیں ہوتی؟

سوال: تو کیا اس وقت امریکہ وینزویلا کو چلا رہا ہے؟

وزیر خارجہ روبیو: دیکھیے، میں ایک مرتبہ پھر وضاحت کرتا ہوں اور یہ آخری بار کروں گا۔ ہم جو چلا رہے ہیں وہ اس بات کی سمت ہے کہ آگے بڑھتے ہوئے معاملات کس رخ پر جائیں گے اور وہ یہ ہے کہ ہمارے پاس دباؤ موجود ہے۔ ہم اس دباؤ کو استعمال کر رہے ہیں اور اس کا استعمال جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ ہم نے تو اسے پہلے ہی استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ ان کے پاس ذخیرہ کرنے کی گنجائش ختم ہوتی جا رہی ہے۔ چند ہفتوں میں انہیں تیل نکالنا پڑے گا یہاں تک کہ وہ تبدیلیاں نہ کریں۔

ہمارا یہ دباؤ ان بحری جہازوں کے بیڑے کی صورت میں ہے جو اس وقت وہاں موجود ہے جو ہمیں یہ اختیار دیتا ہے کہ ہم وینزویلا میں داخل ہونے یا وہاں سے نکلنے والے کسی بھی ایسے تیل بردار جہاز کو ضبط کر سکیں جس پر پابندیاں عائد ہوں۔ ہم یہ انتخاب بھی کر سکتے ہیں کہ کس کے خلاف کارروائی کی جانا چاہیے۔ ہر ایک کے لیے ہمارے پاس عدالتی احکامات موجود ہیں۔

یہ صورتحال اسی طرح برقرار رہے گی جب تک کہ اس ملک میں اقتدار کے اصل فیصلے کرنے والے لوگ ایسی تبدیلیاں نہیں لاتے جو صرف وینزویلا کے عوام کے مفاد میں ہی نہیں بلکہ امریکہ اور ان چیزوں کے مفاد میں بھی ہوں جن کی ہمیں پروا ہے۔ یہی وہ کام ہے جو ہم کرنا چاہتے ہیں۔

سوال: لیکن جب کل صدر سے پوچھا گیا تھا۔

وزیر خارجہ روبیو: قانونی اختیار وہ عدالتی احکامات ہیں جو ہمارے پاس موجود ہیں۔

سوال: جب کل صدر سے پوچھا گیا کہ وینزویلا کو کون چلائے گا تو انہوں نے کہا کہ آپ، وزیر دفاع اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف۔ تو کیا اس وقت آپ وینزویلا کو چلا رہے ہیں؟

وزیر خارجہ روبیو: جارج، میں ایک مرتبہ پھر وضاحت کر چکا ہوں کہ ہمارے پاس یہاں جو دباؤ ہے وہ قرنطینہ کا دباؤ ہے۔ لہٰذا یہ محکمہ جنگ کی کارروائی ہے جس میں بعض معاملات میں کوسٹ گارڈ کے ساتھ مل کر قانون نافذ کرنے کے فرائض انجام دیے جا رہے ہیں یعنی ان کشتیوں کی ضبطگی۔

ظاہر ہے کہ میں ان پالیسیوں میں پوری طرح شامل ہوں اور ویسے بھی، آگے بڑھتے ہوئے، ان تبدیلیوں کے سلسلے میں بھی میرا قریبی کردار ہے جنہیں ہم رونما ہوتے دیکھنا چاہتے ہیں۔ بدقسمتی سے، جو شخص اس سے پہلے وہاں تھا اور جو ملک کا جائز صدر نہیں تھا وہ ایسا شخص تھا جس کے ساتھ ہم کام نہیں کر سکتے تھے۔ وہ ایسا شخص تھا جس کے ساتھ ہم کسی بھی طرح آگے نہیں بڑھ سکتے تھے۔ اس نے چند سال پہلے بائیڈن انتظامیہ کو ایک معاہدے میں دھوکا دیا تھا۔ اس نے معاہدے پر عمل نہیں کیا اور یہ وہ شخص تھا جس کے ساتھ ہم کام نہیں کر سکتے تھے۔

ہمیں امید ہے کہ اب وہاں ایسے لوگ موجود ہیں اور جنہیں ہم جلد ہی جان لیں گے، کیونکہ اصل ثبوت ان کے اقدامات یا عدم اقدامات کی صورت میں سامنے آئے گا۔ یہ لوگ کچھ تبدیلیاں کرنا شروع کریں گے جو بالآخر ایک ایسے وینزویلا کی طرف لے جائیں گی جو گزشتہ پندرہ برسوں سے موجود صورتحال کے مقابلے میں نمایاں اور ڈرامائی طور پر مختلف ہو گا۔

لیکن ہمارا پہلا مقصد امریکہ ہے۔ ہم وینزویلا کی پروا کرتے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ وہ بہتری کی جانب جائے لیکن یہاں ہمارا سب سے بڑا مقصد امریکہ ہے کہ اب مزید منشیات اور ٹرن دے آراگوا جیسے گینگ ہماری طرف نہ آئیں اور نہ ہی ہمارے خطے میں ایسا کوئی ملک ہو جو دنیا بھر میں ہمارے ہر دشمن کے لیے ٹھکانہ بن جائے۔ حزب اللہ، ایران ان سب نے وینزویلا کو اپنا کھیل کا میدان بنا لیا تھا۔ موجودہ امریکی انتظامیہ کے تحت یہ کھیل جاری رہنے نہیں دیا جائے گا۔

سوال: تو کیا آپ کی موجودہ رائے یہ ہے کہ نائب صدر، ڈیلسی روڈریگز اب وینزویلا کی جائز صدر ہیں؟

وزیر خارجہ روبیو: دیکھیے، یہ جائز صدر کا معاملہ نہیں۔ ہم نہیں سمجھتے کہ موجودہ حکومت انتخاب کے ذریعے جائز ہے اور یہ صرف ہمارا موقف نہیں بلکہ دنیا کے 60 سے زیادہ ممالک بھی یہی کہتے ہیں جن میں یورپی یونین بھی شامل ہے۔

لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ آج وینزویلا میں ایسے لوگ موجود ہیں جن کے ذریعے ہی تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔ مثال کے طور پر، جب ہم نے غیرقانونی مہاجرین کو وینزویلا واپس بھیجنے کی پروازیں چلانا چاہیں تو اگرچہ ہم نے مادورو کی حکومت کو کبھی جائز تسلیم نہیں کیا، لیکن ہمیں ان حکام کے ساتھ معاملات طے کرنا پڑے جو ہوائی اڈوں پر قابض تھے۔ ہمیں ان لوگوں کے ساتھ کام کرنا پڑا جن کے پاس اسلحہ تھا اور جو ہوائی اڈوں پر کنٹرول رکھتے تھے۔ ہمارے لیے یہ سب کچھ کرنے کا مقصد اپنے مقاصد کا حصول تھا۔ یہ بات انہیں جائز تسلیم کرنے سے بالکل مختلف ہے۔

آخرکار ان کا نظام حکومت ایک عبوری مدت کی حکومت اور حقیقی انتخابات کے ذریعے ہی جائز قرار پائے گا جو انہوں نے ابھی تک نہیں کروائے۔ مادورو نہ صرف منشیات کا ایسا سمگلر ہے جس پر فردجرم عائد ہو چکی ہے بلکہ وہ جائز صدر بھی نہیں تھا۔ وہ ریاست کا سربراہ نہیں تھا۔ اور میں اب بھی ذرائع ابلاغ میں ایسی رپورٹیں دیکھ رہا ہوں جن میں اسے صدر مادورو اور ریاست کا سربراہ کہا جا رہا ہے۔ وہ ریاست کا سربراہ نہیں تھا۔ اور یہ صرف ہمارا کہنا نہیں ہے بلکہ بائیڈن انتظامیہ نے بھی یہی کہا اور دنیا کے 60 سے زیادہ ممالک نے بھی یہی موقف اختیار کیا ہے۔

سوال: صدر نے کہا کہ آپ نے نائب صدر ڈیلسی روڈریگز سے بات کی اور انہوں نے وعدہ کیا کہ وہ ایسے تمام اقدامات کریں گی جن کی امریکہ کو ضرورت ہے۔ لیکن ٹیلی ویژن پر اپنی تقریر میں وہ خاصی مزاحم نظر آئیں اور کہا کہ مادورو اب بھی صدر ہیں اور وینزویلا کے عوام اب کسی سلطنت کی کالونی یا غلام نہیں رہیں گے۔ یہ ان کے الفاظ ہیں۔ انہوں نے آپ سے اصل میں کیا کہا اور آگے کیا ہونے والا ہے؟

وزیر خارجہ روبیو: دیکھیے، ہم آگے بڑھتے ہوئے صرف پریس کانفرنسوں میں کہی گئی باتوں کی بنیاد پر فیصلے نہیں کریں گے۔ آخر میں ہم عملی اقدامات دیکھنا چاہتے ہیں۔ بیان بازی ایک الگ چیز ہے۔ مختلف وجوہات کی بنا پر لوگ بیان بازی کرتے ہیں۔ ان ممالک میں لوگ مختلف وجوہات سے ٹیلی ویژن پر آ کر کچھ باتیں کہتے ہیں، خاص طور پر اس وقت جب 12 یا 15 گھنٹے پہلے جو شخص اس حکومت کا سربراہ تھا وہ اب ہتھکڑیوں میں نیویارک جا رہا ہے۔ لہٰذا، میں یہ کہوں گا کہ آگے کا راستہ بہت سادہ ہے۔ ہم یہاں پریس کانفرنسوں میں دیے گئے بیانات، کسی انٹرویو میں کہی گئی باتوں یا کہیں ذرائع ابلاغ میں آنے والی بات پر ردعمل نہیں دیں گے۔

ہم جس چیز پر ردعمل دیں گے وہ بہت سادہ ہے کہ آپ کرتے کیا ہیں؟ یہ نہیں کہ آپ عوام میں کیا کہہ رہے ہیں بلکہ حقیقت میں کیا ہوتا ہے؟ آگے کیا ہوتا ہے؟کیا منشیات آنا بند ہوتی ہیں؟ کیا تبدیلیاں کی جاتی ہیں؟ کیا ایران کو نکالا جاتا ہے؟ کیا حزب اللہ اور ایران وینزویلا سے ہمارے مفادات کے خلاف کارروائیاں کرنے کے قابل رہتے ہیں یا نہیں؟ کیا مہاجرت کا سلسلہ رک جاتا ہے؟ کیا منشیات سمگل کرنے والی کشتیاں بند ہو جاتی ہیں؟ کیا آپ 'ای ایل این' اور 'ایف اے آر سی' سے نمٹتے ہیں؟ یہ منشیات کی دہشت گردی میں ملوث تنظیمیں ہیں جن کا بے خوف انداز میں وینزویلا کی سرزمین پر کنٹرول ہے اور یہ کولمبیا اور امریکہ کے مفادات کے خلاف کام کرتی ہیں۔

یہ وہ مسائل ہیں جنہیں ہم حل ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں۔ اگر یہ حل ہو جاتے ہیں تو اسی بنیاد پر ہم فیصلہ کریں گے اور اگر یہ حل نہیں ہوتے تو اسی مطابقت سے ہم اپنا فیصلہ لیں گے۔

سوال: اگر یہ مسائل حل نہ ہوئے تو پھر کیا ہو گا؟

وزیر خارجہ روبیو: جیسا کہ میں نے کہا، اس چھاپے، گرفتاری اور حراست سے پہلے ہمارے پاس جو تمام انتخاب موجود تھے وہ اب بھی ہمارے پاس ہیں۔ ہم انہیں برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ اس وقت قرنطینہ نافذ ہے۔ اگر پابندیوں کی زد میں آنے والا کوئی بحری جہاز وینزویلا کی طرف آئے جائے گا تو اسے امریکہ کی عدالتوں سے حاصل کردہ حکم کے تحت قبضے میں لے لیا جائے گا۔ ہم اپنی عائد کردہ پابندیوں پر عملدرآمد جاری رکھیں گے اور یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک مطلوبہ تبدیلیاں نہیں کی جاتیں۔ میں اس بات کو بڑھا چڑھا کر بھی بیان نہیں کر سکتا کہ اس سے ان کا مستقبل کس قدر مفلوج ہو جائے گا۔

دوسری طرف، اس کا ایک متبادل بھی موجود ہے اور وہ متبادل یہ ہے کہ تیل کی ایک ایسی صنعت قائم ہو جس سے واقعی عوام کو فائدہ پہنچے۔ ایسی صنعت جس کا فائدہ صرف دو، تین یا پانچ افراد کو نہ پہنچے جو اسے لوٹ رہے ہوں اور یقیناً ایران یا کسی اور ایسی قوت کو بھی نہ جائے جس پر پابندی ہو اور جس کے خلاف ہم کارروائی کر رہے ہیں۔

سوال: لیکن امریکہ تیل کے کنوؤں کو کیسے محفوظ بنائے گا؟ کیا اس کے لیے امریکی فوج کی ضرورت نہیں پڑے گی؟

وزیر خارجہ روبیو: دیکھیے، یہ تیل کے کنوؤں کو محفوظ بنانے کا معاملہ نہیں ہے۔ اصل مقصد یہ ہے کہ پابندی کی زد میں آنے والے تیل کی ترسیل نہ ہو سکے۔ انہیں اس پوری صنعت کے انتظام میں تبدیلیاں کرنا ہوں گی کیونکہ اس وقت یہ صنعت روایتی انداز میں موجود ہی نہیں ہے۔ یہ تیل کے کنوئیں بنیادی طور پر ڈکیتی کی کارروائیاں ہیں۔ لوگ حقیقتاً زمین سے تیل چوری کرتے ہیں اور چند خاص افراد جو اس حکومت کو برقرار رکھتے ہیں وہی اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ چند حواری ہی اس سے مستفید ہوتے ہیں۔ تیل کے مخصوص کنویں صرف 18 فیصد صلاحیت پر کام کر رہے ہیں کیونکہ سازوسامان پرانا اور ناکارہ ہے اور یہ لوگ اپنی جیبیں بھرتے ہیں۔ وہ تیل کو عالمی منڈی میں رعایتی نرخ پر بیچتے ہیں، 40 یا 50 فیصد قیمت پر، لیکن تمام مالی وسائل انہی کے پاس جاتے ہیں۔

تیل کے یہ کنوئیں گزشتہ دہائی سے وینزویلا کے عوام کو کسی طرح کا کوئی فائدہ نہیں دے رہے۔ صرف چند افراد اس سے کروڑ پتی اورارب پتی بن گئے اور یہی حکومت کو برقرار رکھنے والا عنصر تھا۔ یہی وہ مسئلہ ہے جسے حل کرنا ضروری ہے۔

اس کا حل یہ ہے کہ وینزویلا کے عوام کے فائدے کے لیے غیر ایرانی یا کسی اور ملک کی نجی کمپنیاں آئیں اور تیل کی اس صنعت کے آلات میں سرمایہ کاری کریں جس میں گزشتہ 20 سال میں کوئی سرمایہ کاری نہیں ہوئی کیونکہ تیل سے حاصل ہونے والے منافع کو دوبارہ نہیں لگایا گیا اور یہ سب چوری ہو گیا ہے۔ اس کے لیے وہ بیرونی کمپنیاں آئیں گی جو جانتی ہیں کہ یہ کام کیسے کرنا ہے۔ جو لوگ یہ کام کرتے ہیں وہ اسے بخوبی انجام دے سکتے ہیں۔ لیکن سب کچھ اس بات سے شروع ہوتا ہے کہ اس صنعت کے ذمہ دار حکام کے رویے میں غیرمعمولی تبدیلی آئے اور جب تک یہ تبدیلیاں نہیں ہوتیں، قرنطینہ برقرار رہے گا۔

سوال: شیوران اس وقت واحد امریکی کمپنی ہے جو وینزویلا میں کام کر رہی ہے۔ یہ وہاں امریکہ کی واحد تیل کمپنی ہے۔ کیا آپ نے کسی اور امریکی تیل کمپنی سے وعدے لیے ہیں کہ وہ وہاں جائیں گی؟

وزیر خارجہ روبیو: میں نے گزشتہ چند روز میں کسی امریکی تیل کمپنی سے بات نہیں کی، لیکن ہمیں خاصا یقین ہے کہ مغربی کمپنیوں کی طرف سے اس میں زبردست دلچسپی لی جائے گی۔ غیر روسی، غیر چینی کمپنیاں بہت دلچسپی لیں گی۔ امریکہ کے خلیجی ساحل  پر ہماری تیل صاف کرنے والی کمپنیاں اس بھاری خام تیل کی صفائی کے لیے موزوں ہیں جبکہ دنیا میں اس تیل کی کمی ہے۔ اسی لیے مجھے محسوس ہوتا ہے کہ نجی صنعت کو موقع اور گنجائش ملے تو وہ اس میں بھرپور دلچسپی لے گی۔

اس سے وینزویلا کے عوام کو بہت زیادہ فائدہ پہنچے گا، صرف چند اعلیٰ حکام کو نہیں بلکہ عام لوگوں کو۔ ایسا ممکن ہے۔ دلچسپی ضرور ہو گی۔ میں نے اس پورے واقعے کے بعد تیل کمپنیوں سے بات نہیں کی لیکن میں جانتا ہوں کہ وہ کون ہیں۔ میں نے وزیر رائٹ، وزیر برگم اور دیگر سے بات کی ہے اور مجھے معلوم ہے کہ وہ جلد ہی ایک جائزہ لیں گے اور کچھ کمپنیوں سے بات کریں گے۔ لیکن مجھے اس بارے میں کوئی تشویش نہیں کہ کوئی اس میں دلچسپی نہیں لے گا۔ اگر اس کام کو درست طریقے سے کیا جائے تو اس میں کمپنیوں کی بہت زیادہ دلچسپی ہو گی۔

سوال: میرے لیے اب بھی یہ بات واضح نہیں کہ امریکہ کے پاس وینزویلا جیسے ملک کو چلانے کا قانونی اختیار کیا ہے۔ کانگریس کے کئی ارکان اور دیگر قانونی ماہرین نے کہا ہے کہ مادورو کو گرفتار کرنے کی یہ کارروائی غیر قانونی تھی کیونکہ آپ نے کانگریس سے اجازت نہیں لی۔ کانگریس کی اجازت ضروری کیوں نہیں تھی؟

وزیر خارجہ روبیو: یہ اس لیےضروری نہیں تھی کیونکہ یہ کوئی جارحانہ حملہ نہیں تھا۔ ہم نے کسی ملک پر قبضہ نہیں کیا۔ یہ گرفتاری کی ایک کارروائی تھی۔ یہ قانون نافذ کرنے کی کارروائی تھی۔ اسے وینزویلا کی سرزمین پر ایف بی آئی کے اہلکاروں نے گرفتار کیا اسے اس کے حقوق بتائے گئے اور پھر ملک سے باہر منتقل کیا گیا۔

میں سب کو ترغیب دیتا ہوں، آج اتوار ہے اور لوگ مصروف ہوتے ہیں لیکن فرد جرم اب منظرعام پر آ چکی ہے۔ لوگوں کو یہ فردجرم پڑھنی چاہیے۔ واقعی پڑھنی چاہیے۔ انہیں دیکھنا چاہیے کہ اس شخص نے گزشتہ 15 برس میں امریکہ کے خلاف کیا کچھ کیا، اس نے اور اس کی اہلیہ نے۔ اسے گرفتار کیا گیا اور ظاہر ہے کہ یہ دوستانہ علاقہ نہیں تھا، اس لیے اسے گرفتار کرنے کے لیے ہمیں محکمہ جنگ کو اس کارروائی میں شامل کرنا پڑا۔

محکمہ جنگ نے کارروائی کی۔ انہوں نے ہر اس چیز کو نشانہ بنایا جو ان ایجنٹوں کے لیے خطرہ ہو سکتی تھی جو اس شخص کو گرفتار کرنے جا رہے تھے اور راستے میں جو بھی خطرہ تھا اسے ختم کیا۔ جب وہ زمین پر تھے تو جو بھی خطرہ تھا اسے ختم کیا۔ یہ ایک بہت محدود اور مخصوص ہدف پر کی جانے والی کارروائی تھی۔ اس مشن کے لیے ہر طرح کی شرائط پوری ہونا ضروری تھیں کہ موسم موزوں ہونا چاہیے تھا، وہ شخص کسی خاص جگہ پر موجود ہونا چاہیے تھا اور سب کچھ بالکل درست ہونا چاہیے تھا تاکہ یہ کارروائی ممکن ہو سکے۔

کانگریس کو اس طرح کی کارروائی کے بارے میں پیشگی اطلاع نہیں دی جا سکتی جس کی دو وجوہات ہیں۔ پہلی یہ کہ اس طرح معلومات سامنے آ سکتی تھیں۔ یہ بس اتنی ہی سادہ بات ہے۔ دوسری یہ کہ، ہمیں ہنگامی صورتحال درپیش تھی۔ یہ ایک فوری اور اچانک معاملہ تھا جس کے بارے میں آپ نہیں جانتے کہ آیا اسے انجام دے پائیں گے یا نہیں۔ آپ نہیں بتا سکتے کہ ہم یہ کام منگل یا بدھ کو کرنے جا رہے ہیں کیونکہ بعض اوقات ہمیں بھی معلوم نہیں ہوتا تھا کہ ہم اسے کر پائیں گے یا نہیں۔ سب چیزیں درست وقت پر، درست جگہ پر اور درست حالات میں ہونا ضروری تھیں۔

یہ اطلاع دینا بہت مشکل تھا لیکن اس کی سب سے بڑی وجہ سلامتی سے متعلق عملی صورتحال تھی وگرنہ ان لوگوں کی جانیں خطرے میں پڑ جاتیں۔

سوال: جیسا کہ آپ جانتے ہیں

وزیر خارجہ روبیو: انہوں نے یہ کارروائی نہایت خطرناک حالات میں انجام دی اور حقیقت یہ ہے کہ بعض ذرائع ابلاغ کو پہلے ہی خبر مل گئی تھی کہ یہ ہونے والا ہے اور انہوں نے اسے خفیہ رکھا جس پر ہم ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں ورنہ انسانی جانیں ضائع ہو سکتی تھیں۔ امریکی لوگوں کی جانیں۔

سوال: کانگریس کے گینگ آف ایٹ کی ایسی معلومات پیشگی سامنے نہ لانے کی تاریخ رہی ہے۔ لیکن آپ نے مادورو کے خلاف فرد جرم کا ذکر کیا اور یقیناً اس میں ان کی منشیات سمگلنگ کی کارروائیوں کی تفصیل موجود ہے۔ اسی دائرہ اختیار میں، ہونڈوراس کے سابق صدر کو بھی اسی طرح کے الزامات میں سزا دی گئی تھی مگر صدر نے انہیں معاف کر دیا۔ یہاں سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کے نائب سربراہ مارک وارنر نے کہا تھا کہ 'آپ پراعتماد طور سے یہ دلیل نہیں دے سکتے کہ ایک معاملے میں منشیات کی سمگلنگ کے الزامات دراندازی کا تقاضا کرتے ہیں جبکہ دوسرے میں معافی دے دی جاتی ہے۔'

سوال: آپ کا اس بارے میں کیا جواب ہے؟

وزیر خارجہ روبیو: دیکھیے، صدر کے پاس معافی دینے کا اختیار موجود ہے۔ وہی اس فائل کا جائزہ لیتے ہیں اور وائٹ ہاؤس کے اہلکاروں کے ساتھ ایسے فیصلوں کو طے کرتے ہیں۔ میں اس معاملے میں سوالات کے لیے آپ کو انہی سے رجوع کرنے کو کہوں گا کیونکہ معافی کے عمل میں میرا کوئی کردار نہیں ہے اسی لیے میں اس پر تبصرہ نہیں کر سکتا۔

لیکن صدر نے کل وضاحت کی کہ انہیں لگتا تھا اس مخصوص معاملے میں ناانصافی ہوئی تھی اور اس فرد کے ساتھ سلوک بھی غیر منصفانہ تھا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ہونڈوراس میں جس جماعت نے حال ہی میں انتخابات جیتے تھے انہوں نے اس کی درخواست کی تھی۔ میں یہی وضاحت اس فیصلے کی منطق کے طور پر پیش کرتا ہوں۔

جہاں تک مادورو کا معاملہ ہے تو دیکھیے، بات بہت سادہ ہے۔ اس شخص پر تو پہلے ہی فرد جرم عائد ہو چکی تھی۔ لیکن اس کے خلاف کسی نے کبھی کوئی کارروائی نہیں کی اور اس نے خود بھی یہ نہیں سوچا تھا کہ اس پر لگائے گئے الزامات پر کبھی عمل ہوگا یا اسے کسی خطرے کا سامنا بھی کرنا پڑے گا۔

سوال: ہرنانڈز کو سزا دی گئی تھی۔

وزیر خارجہ روبیو: یہ کارروائی کل کی گئی۔

سوال: ہرنانڈز کو عدالت نے سزا دی۔

وزیر خارجہ روبیو: میں سمجھتا ہوں۔ آپ پوچھ رہے ہیں، معافی دینے کا اختیار میری ذمہ داری میں نہیں ہے۔ میں اس پر تنقید نہیں کر رہا، بس میں اس پر تبصرہ نہیں کر سکتا کیونکہ میں ان فیصلوں میں شامل نہیں تھا۔

سوال: کیا آپ اس کی حمایت کرتے ہیں؟

وزیر خارجہ روبیو: میں ان فیصلوں میں شامل نہیں تھا۔ میں نے اس کیس کی فائل نہیں دیکھی اور نہ ہی دلائل کا جائزہ لیا۔ میرے پاس وزیر خارجہ اور قومی سلامتی کے مشیر کی حیثیت سے دیگر ذمہ داریاں ہیں لیکن معافیاں ان میں شامل نہیں۔ لہٰذا میں اس کیس پر تبصرہ نہیں کر سکتا کیونکہ میں فائل اور اس کے پس منظر سے پوری طرح واقف نہیں ہوں اور میں ایسی چیز پر تبصرہ نہیں کرنا چاہتا جس میں میرا کوئی کردار نہ رہا ہو۔

سوال: جناب وزیر خارجہ، وقت دینے کا شکریہ

وزیر خارجہ روبیو: شکریہ۔


اصل عبارت پڑھنے کا لنک: https://www.state.gov/releases/office-of-the-spokesperson/2026/01/secretary-of-state-marco-rubio-with-george-stephanopoulos-of-abcs-this-week/

یہ ترجمہ ازراہ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔


This email was sent to stevenmagallanes520.nims@blogger.com using GovDelivery Communications Cloud on behalf of: Department of State Office of International Media Engagement · 2201 C Street, NW · Washington, DC · 20520 GovDelivery logo

روبیو: یہ ہمارہ نصف کرہ ہے اور صدر ٹرمپ ہماری سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کی اجازت نہیں دیں گے

Department of State United States of America

یہ ترجمہ امریکی دفترخارجہ کی جانب سے ازراہ نوازش پیش کیا جارہا ہے۔



وائٹ ہاؤس
04 جنوری، 2026

آج صبح وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ذرائع ابلاغ کے مختلف پروگراموں میں شرکت کی جہاں انہوں نے ٹرمپ انتظامیہ کی اس فیصلہ کن کارروائی پر گفتگو کی جس کے نتیجے میں منشیات کی دہشت گردی کے جرم میں نامزد اور وینزویلا کے غیرقانونی سابق آمر نکولس مادورو کو کامیابی سے گرفتار کیا گیا۔ وزیر خارجہ روبیو نے واضح کیا کہ صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ اس عزم پر مضبوطی سے کاربند ہیں کہ مغربی نصف کرے کو منشیات کے سمگلروں، ایران کے آلہ کاروں یا ایسے دشمن ریاستی عناصر کے لیے محفوظ پناہ گاہ بننے سے روکا جائے جو امریکہ کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہوں۔ انہوں نے واضح کیا کہ کمزوری کا دور ختم ہو چکا ہے اور امریکہ اپنے قریبی خطے سے ان خطرات کا خاتمہ کرنے کے لیے ہر ممکن ذرائع سے کام لے گا۔

        •   'یہ کوئی جنگ نہیں ہے۔ ہم وینزویلا کے خلاف نہیں بلکہ منشیات کی سمگلنگ میں ملوث تنظیموں کے خلاف حالت جنگ میں ہیں۔' (دیکھیے)

        •   'وینزویلا میں امریکی فوجی مستقل طور پر موجود نہیں ہیں۔ وہ صرف تقریباً دو گھنٹے کے لیے وہاں تھے جب مادورو کو گرفتار کیا گیا۔ صدر کی بات نہایت سادہ ہے۔ امریکہ کے صدر کی حیثیت سے وہ لوگوں کو یہ نہیں بتاتے پھریں گے کہ وہ کیا نہیں کریں گے۔' (دیکھیے)

        •   'یہ مغربی نصف کرہ ہے۔ یہ وہ خطہ ہے جہاں ہم رہتے ہیں اور ہم امریکہ کے دشمنوں، حریفوں اور مخالفین کو یہاں اپنی کارروائیوں کا مرکز بنانے کی اجازت نہیں دیں گے۔' (دیکھیے)

        •   'یہ ان اقدامات کو یقینی بنانے کے لیے پہلا قدم ہے جو امریکہ کے قومی مفاد میں ہوں اور ساتھ ہی وینزویلا کے عوام کے لیے بھی فائدہ مند ہوں۔ اس وقت ہماری توجہ اسی پر مرکوز ہے۔ منشیات کی مزید سمگلنگ کی گنجائش نہیں۔ ایران یا حزب اللہ کی مزید موجودگی کی گنجائش نہیں اور نہ ہی اب تیل کی صنعت کو ہمارے دشمنوں کو امیر بنانے کے لیے استعمال ہونے دیا جائے گا۔' (دیکھیے)

        •   'یہ ایسی کارروائی نہیں تھی جس کے لیے کانگریس کی منظوری درکار ہو۔ درحقیقت، اس کے لیے منظوری لی ہی نہیں جا سکتی تھی کیونکہ یہ کوئی جارحانہ حملہ یا طویل فوجی آپریشن نہیں تھا۔ جن اقدامات کے لیے کانگریس کی منظوری ضروری ہو گی ان کے لیے ہم منظوری حاصل کریں گے، بصورت دیگر اسے اطلاع دے دی جائے گی۔' (دیکھیے)

        •   'خارجہ پالیسی کا پورا نظام ہر مسئلے کو لیبیا، عراق یا افغانستان سمجھ لیتا ہے۔ یہ مشرق وسطیٰ نہیں ہے اور یہاں ہمارا مشن بالکل مختلف ہے۔ یہ مغربی نصف کرہ ہے۔' (دیکھیے)

        •   'فوری طور پر درکار تبدیلیاں وہ ہیں جو براہ راست امریکہ کے قومی مفاد میں ہیں۔ ہم اس معاملے میں اسی لیے شامل ہوئے ہیں کیونکہ اس کا امریکہ پر براہ راست اثر پڑتا ہے۔' (دیکھیے)

        •   'ہم نے دیکھا ہے کہ دنیا بھر میں ہمارے مخالفین افریقہ اور دیگر ممالک کے وسائل کس طرح لوٹ رہے ہیں۔ وہ مغربی نصف کرے میں ایسا نہیں کریں گے۔ صدر ٹرمپ کے دور میں ایسا نہیں ہو گا۔ ہماری قومی سلامتی کی حکمت عملی پڑھیے۔ وہ اس معاملے میں سنجیدہ ہیں۔' (دیکھیے)

        •   'ہم جس چیز پر ردعمل دیں گے وہ نہایت سادہ ہے کہ آپ کیا کرتے ہیں؟ نہ کہ آپ عوام میں کیا کہتے ہیں۔ کیا منشیات آنا بند ہوتی ہیں؟ کیا تبدیلیاں کی جاتی ہیں؟ کیا ایران کو نکالا جاتا ہے؟ کیا حزب اللہ اور ایران وینزویلا سے ہمارے مفادات کے خلاف کارروائیاں کرنے کے قابل نہیں رہتے؟' (دیکھیے)

        •   'یہ پالیسی چلانے کا معاملہ ہے، اس حوالے سے پالیسی یہ ہے کہ ہم چاہتے ہیں وینزویلا ایک خاص سمت میں آگے بڑھے کیونکہ یہ نہ صرف وینزویلا کے عوام کے لیے بہتر ہے بلکہ ہمارے قومی مفاد میں بھی ہے۔' (دیکھیے)

        •   'اس چھاپے، گرفتاری اور حراست سے پہلے ہمارے پاس جو انتخاب تھے وہ تمام اب بھی ہمارے پاس موجود ہیں یہاں تک کہ مطلوبہ تبدیلیاں نہیں کی جاتیں۔' (دیکھیے)

        •   'بائیڈن انتظامیہ کے دور میں مادورو کی گرفتاری پر 25 ملین ڈالر کا انعام رکھا گیا تھا لیکن اس پر عمل نہیں کیا گیا۔ صدر ٹرمپ اور باقی سب میں یہی فرق ہے۔ صدر ٹرمپ نے واقعی اس پر عمل کیا۔' (دیکھیے)

        •   'جب تک وہ ان مسائل کو حل نہیں کرتے، تیل پر قرنطینہ جاری رہے گا۔ امریکہ کی طرف سے دباؤ بھی جاری رہے گا۔ اگر منشیات سے بھری کشتیاں امریکہ کی طرف بڑھیں گی تو ہم انہیں نشانہ بناتے رہیں گے۔ پابندی کی زد میں آنے والے بحری جہازوں کو عدالتی احکامات کے تحت ضبط کرتے رہیں گے اور ممکنہ طور پر دیگر اقدامات بھی جاری رکھیں گے جب تک کہ ہمیں مطلوبہ نتائج نظر نہیں آ جاتے۔ ہماری سب سے بڑی ترجیح امریکہ کی سلامتی، تحفظ، خوشحالی اور عوام کی فلاح ہے۔' (دیکھیے)

        •   مادورو منشیات کی سمگلنگ کے جرم میں نامزد ملزم ہی نہیں بلکہ غیر قانونی صدر بھی تھا۔ وہ ریاست کا سربراہ نہیں تھا۔ میں اب بھی ذرائع ابلاغ میں ایسی رپورٹیں دیکھ رہا ہوں جن میں اسے صدر مادورو یا ریاست کا سربراہ کہا گیا ہے۔ وہ ریاست کا سربراہ نہیں تھا۔' (دیکھیے)


اصل عبارت پڑھنے کا لنک:  https://www.whitehouse.gov/articles/2026/01/rubio-this-is-our-hemisphere-and-president-trump-will-not-allow-our-security-to-be-threatened/

یہ ترجمہ ازراہ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔


This email was sent to stevenmagallanes520.nims@blogger.com using GovDelivery Communications Cloud on behalf of: Department of State Office of International Media Engagement · 2201 C Street, NW · Washington, DC · 20520 GovDelivery logo

Page List

Blog Archive

Search This Blog

Elon Musk’s Next IPO Could Be His Biggest — Here’s How to Get In Early

… enough to turn a single $100 bill into more than $35,000! ͏  ͏  ͏  ͏  ͏  ͏  ͏  ͏  ͏  ͏  ͏  ͏  ͏  ͏  ͏  ͏  ͏  ͏  ͏  ͏  ͏  ͏  ͏...