Monday, January 5, 2026

روبیو: یہ ہمارہ نصف کرہ ہے اور صدر ٹرمپ ہماری سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کی اجازت نہیں دیں گے

Department of State United States of America

یہ ترجمہ امریکی دفترخارجہ کی جانب سے ازراہ نوازش پیش کیا جارہا ہے۔



وائٹ ہاؤس
04 جنوری، 2026

آج صبح وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ذرائع ابلاغ کے مختلف پروگراموں میں شرکت کی جہاں انہوں نے ٹرمپ انتظامیہ کی اس فیصلہ کن کارروائی پر گفتگو کی جس کے نتیجے میں منشیات کی دہشت گردی کے جرم میں نامزد اور وینزویلا کے غیرقانونی سابق آمر نکولس مادورو کو کامیابی سے گرفتار کیا گیا۔ وزیر خارجہ روبیو نے واضح کیا کہ صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ اس عزم پر مضبوطی سے کاربند ہیں کہ مغربی نصف کرے کو منشیات کے سمگلروں، ایران کے آلہ کاروں یا ایسے دشمن ریاستی عناصر کے لیے محفوظ پناہ گاہ بننے سے روکا جائے جو امریکہ کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہوں۔ انہوں نے واضح کیا کہ کمزوری کا دور ختم ہو چکا ہے اور امریکہ اپنے قریبی خطے سے ان خطرات کا خاتمہ کرنے کے لیے ہر ممکن ذرائع سے کام لے گا۔

        •   'یہ کوئی جنگ نہیں ہے۔ ہم وینزویلا کے خلاف نہیں بلکہ منشیات کی سمگلنگ میں ملوث تنظیموں کے خلاف حالت جنگ میں ہیں۔' (دیکھیے)

        •   'وینزویلا میں امریکی فوجی مستقل طور پر موجود نہیں ہیں۔ وہ صرف تقریباً دو گھنٹے کے لیے وہاں تھے جب مادورو کو گرفتار کیا گیا۔ صدر کی بات نہایت سادہ ہے۔ امریکہ کے صدر کی حیثیت سے وہ لوگوں کو یہ نہیں بتاتے پھریں گے کہ وہ کیا نہیں کریں گے۔' (دیکھیے)

        •   'یہ مغربی نصف کرہ ہے۔ یہ وہ خطہ ہے جہاں ہم رہتے ہیں اور ہم امریکہ کے دشمنوں، حریفوں اور مخالفین کو یہاں اپنی کارروائیوں کا مرکز بنانے کی اجازت نہیں دیں گے۔' (دیکھیے)

        •   'یہ ان اقدامات کو یقینی بنانے کے لیے پہلا قدم ہے جو امریکہ کے قومی مفاد میں ہوں اور ساتھ ہی وینزویلا کے عوام کے لیے بھی فائدہ مند ہوں۔ اس وقت ہماری توجہ اسی پر مرکوز ہے۔ منشیات کی مزید سمگلنگ کی گنجائش نہیں۔ ایران یا حزب اللہ کی مزید موجودگی کی گنجائش نہیں اور نہ ہی اب تیل کی صنعت کو ہمارے دشمنوں کو امیر بنانے کے لیے استعمال ہونے دیا جائے گا۔' (دیکھیے)

        •   'یہ ایسی کارروائی نہیں تھی جس کے لیے کانگریس کی منظوری درکار ہو۔ درحقیقت، اس کے لیے منظوری لی ہی نہیں جا سکتی تھی کیونکہ یہ کوئی جارحانہ حملہ یا طویل فوجی آپریشن نہیں تھا۔ جن اقدامات کے لیے کانگریس کی منظوری ضروری ہو گی ان کے لیے ہم منظوری حاصل کریں گے، بصورت دیگر اسے اطلاع دے دی جائے گی۔' (دیکھیے)

        •   'خارجہ پالیسی کا پورا نظام ہر مسئلے کو لیبیا، عراق یا افغانستان سمجھ لیتا ہے۔ یہ مشرق وسطیٰ نہیں ہے اور یہاں ہمارا مشن بالکل مختلف ہے۔ یہ مغربی نصف کرہ ہے۔' (دیکھیے)

        •   'فوری طور پر درکار تبدیلیاں وہ ہیں جو براہ راست امریکہ کے قومی مفاد میں ہیں۔ ہم اس معاملے میں اسی لیے شامل ہوئے ہیں کیونکہ اس کا امریکہ پر براہ راست اثر پڑتا ہے۔' (دیکھیے)

        •   'ہم نے دیکھا ہے کہ دنیا بھر میں ہمارے مخالفین افریقہ اور دیگر ممالک کے وسائل کس طرح لوٹ رہے ہیں۔ وہ مغربی نصف کرے میں ایسا نہیں کریں گے۔ صدر ٹرمپ کے دور میں ایسا نہیں ہو گا۔ ہماری قومی سلامتی کی حکمت عملی پڑھیے۔ وہ اس معاملے میں سنجیدہ ہیں۔' (دیکھیے)

        •   'ہم جس چیز پر ردعمل دیں گے وہ نہایت سادہ ہے کہ آپ کیا کرتے ہیں؟ نہ کہ آپ عوام میں کیا کہتے ہیں۔ کیا منشیات آنا بند ہوتی ہیں؟ کیا تبدیلیاں کی جاتی ہیں؟ کیا ایران کو نکالا جاتا ہے؟ کیا حزب اللہ اور ایران وینزویلا سے ہمارے مفادات کے خلاف کارروائیاں کرنے کے قابل نہیں رہتے؟' (دیکھیے)

        •   'یہ پالیسی چلانے کا معاملہ ہے، اس حوالے سے پالیسی یہ ہے کہ ہم چاہتے ہیں وینزویلا ایک خاص سمت میں آگے بڑھے کیونکہ یہ نہ صرف وینزویلا کے عوام کے لیے بہتر ہے بلکہ ہمارے قومی مفاد میں بھی ہے۔' (دیکھیے)

        •   'اس چھاپے، گرفتاری اور حراست سے پہلے ہمارے پاس جو انتخاب تھے وہ تمام اب بھی ہمارے پاس موجود ہیں یہاں تک کہ مطلوبہ تبدیلیاں نہیں کی جاتیں۔' (دیکھیے)

        •   'بائیڈن انتظامیہ کے دور میں مادورو کی گرفتاری پر 25 ملین ڈالر کا انعام رکھا گیا تھا لیکن اس پر عمل نہیں کیا گیا۔ صدر ٹرمپ اور باقی سب میں یہی فرق ہے۔ صدر ٹرمپ نے واقعی اس پر عمل کیا۔' (دیکھیے)

        •   'جب تک وہ ان مسائل کو حل نہیں کرتے، تیل پر قرنطینہ جاری رہے گا۔ امریکہ کی طرف سے دباؤ بھی جاری رہے گا۔ اگر منشیات سے بھری کشتیاں امریکہ کی طرف بڑھیں گی تو ہم انہیں نشانہ بناتے رہیں گے۔ پابندی کی زد میں آنے والے بحری جہازوں کو عدالتی احکامات کے تحت ضبط کرتے رہیں گے اور ممکنہ طور پر دیگر اقدامات بھی جاری رکھیں گے جب تک کہ ہمیں مطلوبہ نتائج نظر نہیں آ جاتے۔ ہماری سب سے بڑی ترجیح امریکہ کی سلامتی، تحفظ، خوشحالی اور عوام کی فلاح ہے۔' (دیکھیے)

        •   مادورو منشیات کی سمگلنگ کے جرم میں نامزد ملزم ہی نہیں بلکہ غیر قانونی صدر بھی تھا۔ وہ ریاست کا سربراہ نہیں تھا۔ میں اب بھی ذرائع ابلاغ میں ایسی رپورٹیں دیکھ رہا ہوں جن میں اسے صدر مادورو یا ریاست کا سربراہ کہا گیا ہے۔ وہ ریاست کا سربراہ نہیں تھا۔' (دیکھیے)


اصل عبارت پڑھنے کا لنک:  https://www.whitehouse.gov/articles/2026/01/rubio-this-is-our-hemisphere-and-president-trump-will-not-allow-our-security-to-be-threatened/

یہ ترجمہ ازراہ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔


This email was sent to stevenmagallanes520.nims@blogger.com using GovDelivery Communications Cloud on behalf of: Department of State Office of International Media Engagement · 2201 C Street, NW · Washington, DC · 20520 GovDelivery logo

No comments:

Page List

Blog Archive

Search This Blog

♟ Forget The Magnificent Seven...

These Stocks Could Blow Past Big Tech in 2026. ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ‌ ...