Tuesday, May 26, 2026

وزیر خارجہ مارکو روبیو کی صحافیوں سے بات چیت

Department of State United States of America

یہ ترجمہ امریکی دفترخارجہ کی جانب سے ازراہ نوازش پیش کیا جارہا ہے۔



امریکی محکمہ خارجہ
ترجمان کا دفتر
25 مئی، 2026
نئی دہلی، انڈیا
پالم ہوائی اڈہ

اقتباسات

سوال: کیا آپ ہمیں ایران کے بارے میں کسی نئی پیش رفت سے آگاہ کر سکتے ہیں؟

وزیر خارجہ روبیو: ہم تاحال اس پر کام کر رہے ہیں۔ جیسا کہ میں نے کہا، ہم نے سوچا کہ شاید گزشتہ رات یا آج ہمارے پاس کچھ خبریں ہوں گی۔ میں اس پر بہت زیادہ گہرائی میں بات نہیں کروں گا۔ جواب آنے میں کچھ وقت لگتا ہے۔ لہٰذا، میرے خیال میں ہمارے پاس ایک خاصی مضبوط تجویز موجود ہے جس کا تعلق آبنائے کو کھولنے اور وہاں آمد و رفت بحال کرنے کی ان کی صلاحیت سے ہے۔ یہ جوہری معاملے پر بات چیت کے لیے نہایت حقیقی اور مخصوص وقت کے حوالے سے نہایت اہم بات چیت ہے اور امید ہے کہ ہم اسے کامیابی سے مکمل کر لیں گے۔ اسے خلیجی ممالک کی جانب سے بڑے پیمانے پر حمایت  ملی ہے۔ عالمی سطح پر بھی اس کی حمایت موجود ہے۔ ہر ملک جسے ہم نے اس کی تفصیلات سے آگاہ کیا، اس نے یہ بات سمجھی ہے کہ یہ نہ صرف انتہائی معقول ہے بلکہ دنیا کے لیے درست اور ضروری اقدام بھی ہے۔

صدر نے کہا ہے کہ انہیں کوئی جلدی نہیں۔ وہ کوئی خراب معاہدہ نہیں کریں گے اور وہ کوئی ناقص سمجھوتہ کرنے والے نہیں ہیں۔ لہٰذا، دیکھتے ہیں کہ کیا ہوتا ہے۔ ہم متبادل راستوں پر غور کرنے سے پہلے سفارت کاری کو کامیاب ہونے کا ہر ممکن موقع دیں گے۔

سوال: اس وقت رکاوٹ کیا ہے؟ کیا کوئی ایسا کام ہے جو ابھی کرنا ضروری ہے؟

وزیر خارجہ روبیو: یہ صرف جواب آنے کی بات ہے۔ میرا مطلب ہے کہ جب آپ ان معاملات کی تفصیلات میں جاتے ہیں تو پھر دوسرے فریق کے جواب کا انتظار کرنا پڑتا ہے اور ایرانیوں کو جواب دینے میں کچھ زیادہ وقت لگ جاتا ہے۔ لہٰذا، جیسا کہ میں نے کہا، صدر کوئی خراب معاہدہ نہیں کریں گے۔ ہرگز نہیں۔ اس مسئلے پر یعنی ایک جوہری ایران کے خطرے کے حوالے سے صدر ٹرمپ سے زیادہ کسی نے کام نہیں کیا اور نہ ہی کسی نے اس خطرے کو اس قدر سنجیدگی سے لیا ہے۔ اسی لیے، مجھے پورا یقین ہے اور ہم سب کو بھی پراعتماد ہونا چاہیے کہ یا تو ہمارے پاس ایک اچھا معاہدہ ہوگا یا ہمیں اس مسئلے سے کسی اور طریقے سے نمٹنا پڑے گا۔ ہماری ترجیح یہی ہے کہ کوئی اچھا معاہدہ ہو جائے۔

سوال: لبنان کے بارے میں آپ کیا کہیں گے؟ کیا لبنان بھی کسی معاہدے کا حصہ بنے گا؟

وزیر خارجہ روبیو: لبنان کے معاملے پر ہم الگ کام کر رہے ہیں۔ لبنان کے حوالے سے ہماری بات چیت جاری ہے۔ ہمارے پاس 45 دن کی جنگ بندی ہے اور اب تک ہفتہ وار ملاقاتیں ہو چکی ہیں، جبکہ لبنان کی حکومت اور اسرائیل کے درمیان روزانہ رابطے بھی جاری ہیں۔ مسئلہ لبنان اور اسرائیل کا نہیں۔ مسئلہ حزب اللہ ہے۔ گزشتہ رات ہی حزب اللہ نے ایک بیان جاری کیا جس میں لبنانی حکومت کا تختہ الٹنے کا مطالبہ کیا گیا۔ یعنی یہ ہمارے لیے یاد دہانی ہے کہ کہ ہم کس سے معاملہ کر رہے ہیں۔ ویسے بھی، یہ ایران کی ایک آلہ کار تنظیم ہے، سو فیصد ایرانی آلہ کار۔ جب تک لبنان میں عسکری سرگرمیاں جاری رہیں گی۔ جب تک مسلح حزب اللہ کا وجود برقرار ہے اس وقت تک لبنان میں امن قائم کرنا مشکل ہو گا کیونکہ وہ لبنان کے عوام کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ وہ صرف اسرائیل پر ہی حملے نہیں کر رہی بلکہ لبنان کے لوگوں کو بھی مشکل میں ڈال رہی ہے جو حزب اللہ کی وجہ سے بہت بھاری قیمت ادا کر رہے ہیں۔ لہٰذا، یہی اصل مسئلہ ہے البتہ ہم اس معاملے پر لبنان اور اسرائیل دونوں کی حکومتوں کے ساتھ کام کر رہے ہیں اور کچھ اچھی پیش رفت بھی ہوئی ہے جس میں جنگ بندی میں توسیع بھی شامل ہے۔ آگے بڑھنے کے لیے راستہ موجود ہے اور ہم اس پر کام جاری رکھیں گے۔

حزب اللہ ایک دہشت تنظیم ہے۔ میں اس بارے میں اور کیا کہہ سکتا ہوں؟

سوال: کیا (ناقابل سماعت) کسی معاہدے کی صورت میں اسرائیل لبنان پر حملہ نہیں کرے گا؟

وزیر خارجہ روبیو: اسرائیل کو ہمیشہ اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔ دنیا کے ہر ملک کو یہ حق حاصل ہے۔ اسی لیے، اگر حزب اللہ کی جانب سے ان پر میزائل داغے جائیں گے تو اسرائیل کو مکمل حق ہے کہ وہ اس کا جواب دے یا اسے روکنے کے لیے کارروائی کرے۔ یہ بات ہمیشہ سے تسلیم شدہ ہے۔ لبنان میں موجودہ جنگ بندی کے دوران بھی یہ تسلیم شدہ بات ہے اور آئندہ بھی رہے گی۔

سوال: کیا میں آپ سے پاکستان کے کردار کے بارے میں پوچھ سکتا ہوں؟ کیا انڈیا کے حکام نے آپ کے سامنے کوئی تشویش ظاہر کی ہے؟ اور آپ نے انہیں کیا بتایا؟”

وزیر خارجہ روبیو: میرا مطلب ہے، دیکھیے، انہیں اس بارے میں تشویش ہے۔ میرا خیال ہے کہ انہیں ہمیشہ ہی اس بارے میں فکر مندی رہی ہے، ظاہر ہے کہ انڈیا مسلسل اس حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان کی سرزمین سے مسلح دہشت گرد گروہ سرگرم ہیں جو انڈیا کو نشانہ بناتے ہیں۔ اس حوالے سے ہمیشہ خدشات موجود رہے ہیں۔ لیکن جہاں تک ایران کے معاملے میں ثالث اور سہولت کار کے طور پر پاکستان کے کردار کا تعلق ہے، اس موضوع پر کبھی بات نہیں ہوئی۔ میں نہیں سمجھتا کہ انہوں نے اس پر کوئی شکایت کی ہے۔ میرا مطلب یہ ہے کہ ان کا پاکستان کے ساتھ مسئلہ الگ نوعیت کا ہے۔


اصل عبارت پڑھنے کا لنک: https://www.state.gov/releases/office-of-the-spokesperson/2026/05/secretary-of-state-marco-rubio-remarks-to-the-press-10/

یہ ترجمہ ازراہ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔


This email was sent to stevenmagallanes520.nims@blogger.com using GovDelivery Communications Cloud on behalf of: Department of State Office of International Media Engagement · 2201 C Street, NW · Washington, DC · 20520 GovDelivery logo

No comments:

Page List

Blog Archive

Search This Blog

وزیر خارجہ مارکو روبیو کی صحافیوں سے بات چیت

یہ ترجمہ امریکی دفترخارجہ کی جانب سے ازراہ نوازش پیش کیا جارہا ہے۔ ...