Monday, January 12, 2026

فضول بین الاقوامی اداروں کے ڈھونگ کا اختتام

Department of State United States of America

یہ ترجمہ امریکی دفترخارجہ کی جانب سے ازراہ نوازش پیش کیا جارہا ہے۔



امریکی محکمہ خارجہ
مصنف: امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
10 جنوری، 2026

امریکہ نے بین الاقوامی نظام کی تشکیل میں مرکزی کردار ادا کیا ہے۔ ہمارے خطے کے ممالک کو اپنے نصف کرے سے باہر کی مداخلت سے آزاد ہو کر ترقی کرنے کا موقع دینے والی منرو ڈاکٹرائن سے لے کر اقوام متحدہ کے قیام میں ہمارے کلیدی کردار، شمالی اوقیانوس کے معاہدے کی تنظیم کے تحت بنیادی سلامتی فراہم کرنے والے ملک کے طور پر اور دنیا میں سب سے بڑے امدادی عطیہ دہندہ کی حیثیت تک، امریکہ کا قائدانہ کردار شک و شبہ سے بالاتر رہا ہے۔ قیادت مشکل فیصلوں اور اس صورتحال کو پہچاننے کی صلاحیت کا نام ہے کہ وہ ادارے جو امن، خوشحالی اور آزادی کے فروغ کے لیے قائم کیے گئے تھے، کب انہی مقاصد کی راہ میں رکاوٹ بن جاتے ہیں۔ جسے ہم 'بین الاقوامی نظام' کہتے ہیں وہ اب سینکڑوں غیر شفاف بین الاقوامی اداروں سے بھرا ہوا ہے جن میں سے بیشتر کے دائرہ ہائے کار ایک دوسرے سے متصادم ہیں، ان کے ہاں کام کی تکرار ہے، نتائج غیر موثر ہیں اور ان کا مالی و اخلاقی نظم و نسق کمزور ہے۔ حتیٰ کہ وہ ادارے بھی جو کبھی مفید خدمات انجام دیتے تھے، رفتہ رفتہ غیر موثر افسرشاہی، سیاسی سرگرمیوں کے پلیٹ فارم یا ہمارے قومی مفادات کے مخالف ذرائع میں بدل گئے ہیں۔ یہ ادارے نہ صرف نتائج فراہم کرنے میں ناکام ہیں بلکہ ان لوگوں کی راہ میں بھی رکاوٹ بنتے ہیں جو ان مسائل سے نمٹنا چاہتے ہیں۔ بین الاقوامی افسرشاہی کو غیرمشروط مالی معاونت فراہم کرنے کا دور اب ختم ہو چکا ہے۔

اِس ہفتے، انتظامی حکم 14199 کے نتائج کی مطابقت سے، صدر ٹرمپ نے 66 بین الاقوامی اداروں سے امریکہ کی دستبرداری کا اعلان کیا جن کی ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے فضول، غیر موثر اور نقصان دہ بین الاقوامی اداروں سے متعلق جاری جائزے کے تحت نشاندہی کی گئی تھی۔ صدارتی یادداشت میں ان اداروں کو شامل کیا گیا ہے جو اپنے دائرہ کار میں غیر ضروری طور پر ایک دوسرے کی نقل ہیں، بدانتظامی کا شکار ہیں، غیر ضروری اور وسائل کے ضیاع کا باعث ہیں، ناقص طور پر چلائے جا رہے ہیں، ایسے عناصر کے مفادات کے زیر اثر آ چکے ہیں جو ہمارے قومی مفادات کے خلاف اپنے مقاصد کو آگے بڑھا رہے ہیں یا ہماری ملکی خودمختاری، آزادیوں اور مجموعی خوشحالی کے لیے خطرہ سمجھے جاتے ہیں۔

اب یہ قابل قبول نہیں رہا کہ امریکی عوام کی محنت سے کمائی گئی ٹیکس کی رقم ایسے اداروں پر خرچ کی جائے جو نتائج، جوابدہی یا ہمارے قومی مفادات کے احترام کا کوئی ثبوت فراہم نہیں کر سکتے۔ ان اداروں کو مسلسل مالی وسائل فراہم کرنا اور فروغ دینا امریکہ کی عالمی قیادت سے دستبرداری کے مترادف ہے جو آج دنیا کو درپیش سستی توانائی، معاشی ترقی اور ملکی خودمختاری جیسے مسائل کے حل میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ ان اداروں میں امریکہ کی شمولیت برقرار رہنے سے نہ صرف ان کا وجود جائز ٹھہرتا ہے بلکہ ایسے نظام کو بھی تقویت ملتی ہے جو دنیا بھر کے اربوں لوگوں کے لیے ناکام ثابت ہو چکا ہے۔

جبری اسقاط حمل کی مالی معاونت سمیت اقوام متحدہ کے فنڈ برائے آبادی کی اخلاقی خلاف ورزیوں کی طویل تاریخ سے لے کر، آج تک عورت کی تعریف وضع کرنے میں یو این ویمن کی ناکامی، موسمیاتی تبدیلی سے متعلق اقوام متحدہ کے فریم ورک کنونشن کی جانب سے مغربی کنارے اور غزہ میں موسمیاتی خوف پھیلانے والی اور توانائی مخالف سرمایہ کاری پر لاکھوں ڈالر ضائع کرنے اور افریقی النسل افراد سے متعلق اقوام متحدہ کے مستقل فورم کی جانب سے عالمگیر تلافی نقصان کے حق میں کھلے عام نسل پرستانہ پالیسیوں کی وکالت تک، یہ تمام ادارے اگر کھلی بد نیتی نہیں تو کم از کم مسلسل ناکارہ پن کی طویل تاریخ کے حامل ضرور ہیں۔ امریکی عوام، ہمارے شراکت دار اور دنیا بھر کے وہ اربوں لوگ اس سے کہیں بہتر کے حق دار ہیں جو قیادت کے لیے امریکہ کی طرف دیکھتے ہیں۔ ایسے اداروں میں ہماری مسلسل شمولیت ہمارے قومی فریضے سے دستبرداری کے مترادف ہو گی جو نہ تو ہماری اقدار کی عکاسی کرتے ہیں اور نہ ہی ان سے ہمارے مفادات کی تکمیل ہوتی ہے۔

ہم نے جن اداروں سے دستبرداری کا فیصلہ کیا ہے ان کا انتخاب ان کے مقاصد، اقدامات، کارکردگی، اثر پذیری، ضرورت اور سب سے بڑھ کر امریکی قومی مفادات کے حصول میں ان کے کردار کا تفصیلی اور طویل جائزہ لینے کے بعد کیا گیا ہے۔ جن اداروں سے ہم علیحدہ ہو رہے ہیں صرف وہی خطاوار نہیں ہیں بلکہ بین الاقوامی اداروں میں امریکہ کی موجودگی کے حوالے سے ہمارا جائزہ بدستور جاری ہے۔

اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ امریکہ دنیا سے منہ موڑ رہا ہے۔ ہم محض کثیرالفریقی نظام کے ایک فرسودہ نمونے کو مسترد کر رہے ہیں، ایسے نمونے کو جو امریکی ٹیکس دہندہ کو عالمی طرز حکمرانی کے ایک وسیع و عریض ڈھانچے کا مالی ضامن سمجھتا ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ ان اداروں سے حقیقی نتائج کا مطالبہ کر رہی ہے جنہیں ہم مالی وسائل فراہم کرتے ہیں اور جن میں ہم شریک ہیں اور ہم اصلاحاتی مہم کی قیادت کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔ صدر ٹرمپ نے اس ہفتے جاری کی گئی صدارتی یادداشت سمیت واضح کر دیا ہے کہ وہ بین الاقوامی اداروں کو امریکہ کو کمزور کرنے یا ہماری قومی خودمختاری، ہماری توانائی کی خود کفالت، ہماری معاشی خوشحالی، ہماری جمہوریت اور ہماری آئینی آزادیوں کو محدود کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ وہ امریکہ کو ایسے ناکام نمونے کی مسلسل مالی معاونت کی اجازت نہیں دیں گے جو اصلاحات سے انکار کرتا ہو یا جس میں اصلاح ممکن ہی نہ ہو۔ اس ہفتے کی صدارتی یادداشت نے واضح کر دیا ہے کہ امریکہ اب شکستہ جمود کو قبول نہیں کر رہا، ہمارا ملک ہمیشہ کی طرح قیادت کرنے کے لیے تیار ہے اور یہ کہ بعض اوقات حقیقی قیادت کا مطلب یہ آگاہی بھی ہوتا ہے کہ کب کسی سے الگ ہو جانا چاہیے۔

مارکو روبیو نے 21 جنوری 2025 کو امریکہ کے 72ویں وزیر خارجہ کی حیثیت سے حلف اٹھایا۔ وزیر خارجہ ایک ایسے محکمہ خارجہ کی تشکیل کر رہے ہیں جو سب سے پہلے امریکہ کے اصول کو مقدم رکھے۔


اصل عبارت پڑھنے کا لنک: https://substack.com/home/post/p-184121584 

یہ ترجمہ ازراہ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔


This email was sent to stevenmagallanes520.nims@blogger.com using GovDelivery Communications Cloud on behalf of: Department of State Office of International Media Engagement · 2201 C Street, NW · Washington, DC · 20520 GovDelivery logo

No comments:

Page List

Blog Archive

Search This Blog

Trump Floats A 10% Cap On Credit Card Interest

A proposed 10% cap on credit card interest rates sparks debate over debt relief, credit access, and the extent to which the government shou...